وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا۸۲
(سورۃ بنی اسرآئیل آیت 82 )
ترجمہ : اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز ، جو ایمان والوں کے لئے شفا اور رحمت ہے ، اور اس سے ظالموں کو ، نقصان ہی بڑھتا ہے
درس :
اس آیت میں اللہ وحدہٗ لاشریک نے کافروں کا رد کیا ہے جو قرآن کی حقیقت کو جھٹلاتے تھے۔
اور ان کو صراحت کے کے ساتھ بتادیا کہ اس قرآن سے امراضِ ظاہرہ اور باطنہ، ضلالت و جہالت دور ہوتے ہیں ۔
روحانی جسمانی، ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے ۔
اعتقاداتِ باطلہ و اخلاقِ رذیلہ دفع ہوتے ہیں۔
عقائدِ حقّہ و معارفِ الٰہیہ و صفاتِ حمیدہ و اخلاقِ فاضلہ حاصل ہوتے ہیں۔
یہ قرآن کریم ایسے علوم و دلائل پر مشتمل ہے جو وہمانی و شیطانی ظلمتوں کو اپنے انوار سے نیست و نابود کر دیتا ہے۔
اس پاک کتاب کا ایک ایک حرف برکات کا گنجینہ ہے جس سے روحانی جسمانی امراض سحر ، جادو ، بھوت ،پریت ،جنات ،رجعتیں، نحوستیں سب دور ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment
تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔