Free Translation Widget

Monday, December 12, 2011

رجب کے کونڈےشریعت کے آئینے میں



22رجب کومسلمان جو کونڈے پکاتےاور بھرتے ہیں وہ  درست اور جائز ہیں۔
 اس سے مقصد امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو ایصال ثواب پہنچانا ہے۔

فاتحہ یعنی قرآن مجید کی تلاوت یا کلمہ شریف یا نفلی نمازوں یا کسی بھی بدنی یا مالی عبادتوں کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچانا یہ جائز ہے اور اسی کو عام طور پر لوگ فاتحہ دینا اور فاتحہ دلانا کہتے ہیں زندوں کے ایصالِ ثواب سے مُردوں کو فائدہ پہنچتا ہے فقہ اور عقائد کی کتابوں مثلاً ہدایہ و شرح عقائد نسفیہ میں اس کا بیان موجود ہے۔ اس کو بدعت اور ناجائز کہنا جہالت اور ہٹ دھرمی ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے،

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ
(سورۃ  الحشر آیت 10 )
ترجمہ : اور وہ جو ان کے بعد آئے ، عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے
اس آیت میں ایصالِ ثواب کا ثبوت ہے۔

اسی طرح حدیث پاک میں ہے۔
حضرت سعد بن عُبادہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہو گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میری ماں کا انتقال ہو گیا ان کے لئے کونسا صدقہ افضل ہے ! حضور اقدس نے فرمایا پانی (بہترین صدقہ ہے۔ تو حضور کے فرمان کے مطابق) حضرت سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنواں کھدوا دیا۔ (اور اُسے اپنی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے) کہا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے۔ (یعنی اس کا ثواب ان کی رُوح کو ملے)۔    (مشکوٰۃ ج1 ص169)

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ! میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور وہ کسی بات کی وصّیت نہ کرسکی۔ میرا گُمان ہے کہ وہ انتقال کے وقت کچھ بول سکتی تو وہ صدقہ ضرور دیتی۔ تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کردوں تو کیا اس کی رُوح کو ثواب پہنچے گا ! تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں پہنچے گا۔
(مسلم جلد اول ص 324)

ان احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ مرحومین کو ایصالِ ثواب پہنچانے  کاعمل رسولِ کریم کے زمانۂ پاک سے جاری و ساری ہے۔گیارہویں، بارہویں،بزرگانِ دین کے اعراس وغیرہ سب اسی ایصالِ ثواب میں شامل ہیں۔

علامہ نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں ارشاد فرمایا کہ
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر میّت کی طرف سے صدقہ کیا جائے تو میت کو اس کا فائدہ اور ثواب پہنچتا ہے۔ اسی پر عُلماء کا اتفاق ہے۔ (نووی شرح مسلم ج1 ص324)

اسی طرح فتح القدیر میں ہے،
الاصل فی هذا الاباب ان الانسان له ان يجعل ثواب عمله لغيره صلوة او صوما او صدقه او غيرها عند اهل السنه والجماعۃ، لما روی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه ضحی بکبشين املحين احدهما عن نفسه و الاخر عن امته ممن اقربو حدانيه الله تعالیٰ.
(فتح القدير، ج : 3، ص : 65)

اس مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ انسان اپنے نیک عمل کا ثواب نماز ہو، روزہ ہو، صدقہ ہو یا کچھ اور، اہل سنت و جماعت کے نزدیک دوسرے کو پہنچا سکتا ہے۔ نبی کریم سے روایت ہے کہ آپ نے دو چتکبر مینڈھے قربانی دیئے۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی مسلمان امت کی طرف سے۔
ہاں اس کے انعقاد میں جو قیدیں لگا ئی جاتی  ہیں وہ درست نہیں۔ مثلاً،

 اس موقع پر ایک چھوٹی کتاب بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا معجزہ،داستانِ عجیب، یا کونڈوں کے متعلق عجیب و غریب حکایتیں جو پڑھی اور بیان کی جاتی ہیں ،جن کا صحیح روایات سے کوئی تعلق نہیں اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ہاں اگر علمائے اہلسنت کے تحریر شدہ صحیح روایات سے ثابت واقعات پڑھیں جائیں اور بیان کیے جائیں  تو پھر کوئی قباحت نہیں۔اور اب ایسی مستند واقعات کی کتب آسانی سے مل جاتی ہیں۔

عوام میں یہ مشہور ہے کہ کونڈے گھر سے باہر نہ نکالے جائیں، اسی جگہ کھائیں، یہ بھی غلط ہے ۔
صرف حلوہ پوری اور کونڈوں کو ضروری سمجھیں تو یہ بھی غلط ہے۔
 خواہ حلوہ پوری ہو یا کچھ اور، یونہی کونڈوں میں رکھیں یا کسی برتن میں سب جائز ہے۔ جو چاہے کھائے۔ مسلم، غیر مسلم سب کو دیں، ثواب ملے گا۔
بعض لوگ کہتے ہیں اس دن 22 رجب کو امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی وفات نہں ہوئی بلکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ہے اور شیعہ لوگ دراصل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی مناتے ہیں۔ لیکن یہ الزام باطل ہے۔

یاد رہے ناصبیوں اورخارجیوں کا یہ ہمیشہ شغل رہا ہے کہ اہلِ اسلام کوکسی نہ کسی طرح بے جا تنقید اور نقطہ چینی کرکے اچھے عمل سے محروم رکھیں ۔






No comments:

Post a Comment

تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔