شبِ قدر
از : علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری دامت برکاتہم العالیہ
شبِ قدر کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کے متعلق قرآن کریم میں پوری سورۃ نازل ہوئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا،''بے شک ہم نے اسے(قرآن کو) شبِ قدر میں اتار۔ اور تم نے کا جانا کیا ہے شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر (ہے) اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک''۔ (سورۃ القدر ،کنزالایمان)
اس سورہ سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر ایسی بابرکت اور عظمت وبزرگی والی رات ہے:
١۔ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
٢۔ اسی رات میں قرآن حکیم لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل ہو۔
٣۔ اسی رات میں فرشے اور جبرئیل علیہ السلام زمین پر اترتے ہیں۔
٤۔ اسی رات میں صبح طلوع ہونے تک خیروبرکت نازل ہوتی ہے اور یہ رات سلامتی ہی سلامتی ہے۔
شبِ قدر ملنے کا سبب
امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (موطا امام مالک ص ٢٦٠)
حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہِ خدا میں جہاد کے لیے ہتھیار اٹھائے رکھے۔ صحابہ کرام کو اس پر تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شبِ قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا۔ (سنن الکبریٰ بیہقی ج ٤ ص ٣٠٦،تفسیر ابنِ حریر)
اس سورہ سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر ایسی بابرکت اور عظمت وبزرگی والی رات ہے:
١۔ جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
٢۔ اسی رات میں قرآن حکیم لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل ہو۔
٣۔ اسی رات میں فرشے اور جبرئیل علیہ السلام زمین پر اترتے ہیں۔
٤۔ اسی رات میں صبح طلوع ہونے تک خیروبرکت نازل ہوتی ہے اور یہ رات سلامتی ہی سلامتی ہے۔
شبِ قدر ملنے کا سبب
امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (موطا امام مالک ص ٢٦٠)
حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہِ خدا میں جہاد کے لیے ہتھیار اٹھائے رکھے۔ صحابہ کرام کو اس پر تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شبِ قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا۔ (سنن الکبریٰ بیہقی ج ٤ ص ٣٠٦،تفسیر ابنِ حریر)
لیلۃ القدر کی وجہ تسمیہ
اس مقدس اور مبارک رات کا نام لیلۃ القد رکھے جانے کی چند حکمتیں پیش خدمت ہیں۔
١۔ قدر کے ایک معنی مرتبے کے ہیں اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس رات کی عظمت و بزرگی اور اعلیٰ مرتبے کی وجہ سے اس کا نام لیلۃ القد یعنی اعلیٰ مرتبے والی رات رکھا گیا ہے۔ اس رات مین عبادت کا مرتبہ بھی بہت اعلیٰ ہے جو کوئی اس رات میں عبادت کرتا ہے۔ وہ بارگاہِ الہٰی میں قدر و منزلت والا ہوجاتا ہے۔ اور اس رات کی عبادت کا مرتبہ یہ ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ایک اور حکمت لیلۃ القدر کی یہ ہے کہ اس رات میں عظمت و بلند مرتبہ والی کتاب نازل ہوئی ہے کتاب اور وحی لے کر آنے والے فرشتے جبرئیل علیہ السلام بھی بلند مرتبے والے ہیں اور یہ عطیم الشان کتاب قرآن حکیم جس محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ بھی بڑی عظمت اور بلند مرتبے والے ہیں۔ سورۃ القدر میں اس لفظ ''قدر'' کے تین مرتبہ آنے میں شاید یہی حکمت ہے۔
٢۔ ''قدر'' کے ایک معنی تقدیر کے بھی ہیں اور چونکہ اس رات میں بندوں کی تقدیر کا وہ حصہ جو اس رمضان سے اگلے رمضان تک
پیش آنے والا ہوتا ہے۔ وہ متعلقہ فرشتوں کوسونپ دیا جاتا ہے۔ اس لیے بھی اس رات کو شبِ قدر کہتے ہیں۔
١۔ قدر کے ایک معنی مرتبے کے ہیں اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس رات کی عظمت و بزرگی اور اعلیٰ مرتبے کی وجہ سے اس کا نام لیلۃ القد یعنی اعلیٰ مرتبے والی رات رکھا گیا ہے۔ اس رات مین عبادت کا مرتبہ بھی بہت اعلیٰ ہے جو کوئی اس رات میں عبادت کرتا ہے۔ وہ بارگاہِ الہٰی میں قدر و منزلت والا ہوجاتا ہے۔ اور اس رات کی عبادت کا مرتبہ یہ ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ایک اور حکمت لیلۃ القدر کی یہ ہے کہ اس رات میں عظمت و بلند مرتبہ والی کتاب نازل ہوئی ہے کتاب اور وحی لے کر آنے والے فرشتے جبرئیل علیہ السلام بھی بلند مرتبے والے ہیں اور یہ عطیم الشان کتاب قرآن حکیم جس محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ بھی بڑی عظمت اور بلند مرتبے والے ہیں۔ سورۃ القدر میں اس لفظ ''قدر'' کے تین مرتبہ آنے میں شاید یہی حکمت ہے۔
٢۔ ''قدر'' کے ایک معنی تقدیر کے بھی ہیں اور چونکہ اس رات میں بندوں کی تقدیر کا وہ حصہ جو اس رمضان سے اگلے رمضان تک
پیش آنے والا ہوتا ہے۔ وہ متعلقہ فرشتوں کوسونپ دیا جاتا ہے۔ اس لیے بھی اس رات کو شبِ قدر کہتے ہیں۔
نزول قرآن
اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر کی بڑی وجہ فضیلت یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نزول قرآن کی رات ہے۔ سورۃ الدخان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ قرآن کریم کو مبارک رات میںنازل کیا۔ اس مبارک معض مفسرین کرام نے شبِ برأت مراد لی ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔ اور یہ بھی مشہور ہے کہ قرآن حکیم تیئیس برس کی مدت میں بتدریج نازل ہوا نیز اس کا نزول ربیع الاول میں شروع ہوا۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے ان اقوال میں خوب تطبیق کی ہے وہ فرماتے ہیں،''شبِ قدر میں قرآن کریم لوحِ محفوظ سے یکبارگی آسمانِ دنیا پر بیت العزت میں نازل ہوا جب کہ اس کے نزول کا اندازہ اور لوحِ محفوظ کے نگہبانوں کو اس کا نسخہ نقل کرکے آسمانِ دنیا پر پہنچانے کا حکم اسی سال کی شبِ برأت میں ہوا۔ گویا قرآن حکیم کا نزول حقیقی ماہِ رمضان میں شبِ قدر کو ہوا اور نزول تقدیری اس سے پہلے شبِ برأت میں ہوا۔ اور سینۂ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول قرآن کا آغاز ربیع الاول میں پیر کے دن ہوا اور تیئیس سال میں مکمل ہوا۔ (تفسیر عزیزی پارہ ٣٠ ص ٤٣٨)
ہزار مہینوں سے بہتر
شبِ قدر کی دوسری وجہئ فضیلت یہ ہے کہ اس رات کی عبادت کا ثواب ایک ہزار مینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایک ہزار مہینوں کے تراسی سال اور چار ماہ بنتے ہیں پس اگر کوئی شخص ٨٣ سال اور چار ماہ تک دن رات مسلسل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو بھی ایک شبِ قدر کی عبادت اتنی طویل مدت کی عبادت سے افضل بہتر ہے جب کہ اس طویل مدت میں کوئی شب قدر نہ ہو۔ اسی طرح یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص شبِ قدر میں عبادت کرے تو گویا اس نے ٨٣ سال اور چار ماہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دیے بلکہ اسے اس سے بہتر اجر ملے گا پھر اس پر بس نہیں،اگر طلب سچی ہو تو ہر سال شب قدر نصیب ہودسکتی ہے گویا ذرا سی محنت اور لگن سے کئی ہزار مہینوں سے زیادہ اجر و ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایک ہزار مہینوں کے تراسی سال اور چار ماہ بنتے ہیں پس اگر کوئی شخص ٨٣ سال اور چار ماہ تک دن رات مسلسل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو بھی ایک شبِ قدر کی عبادت اتنی طویل مدت کی عبادت سے افضل بہتر ہے جب کہ اس طویل مدت میں کوئی شب قدر نہ ہو۔ اسی طرح یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص شبِ قدر میں عبادت کرے تو گویا اس نے ٨٣ سال اور چار ماہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دیے بلکہ اسے اس سے بہتر اجر ملے گا پھر اس پر بس نہیں،اگر طلب سچی ہو تو ہر سال شب قدر نصیب ہودسکتی ہے گویا ذرا سی محنت اور لگن سے کئی ہزار مہینوں سے زیادہ اجر و ثواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔
نزولِ ملائکہ
نورِ مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شبِ قدر آتی ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے جھر مٹ میں زمین پر اترتے ہیں اور اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں جو کھڑا یا بیٹھا اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہا ہو۔ (مشکوٰۃ ج ١ ص ٤٥٣،شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٤٣)
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے اس شب میں عبادت کرنے والوں سے مصافحہ کرتے یں اور ان کی دعاؤ ں پر آمین کہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے''۔ (فضائل الاوقات للبیہقی ص ٢١٥)
علماء فرماتے ہیں کہ شبِ قدر میں عبادت کرنے والوں سے جب حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے سلام و مصافحہ کرتے ہیں تو اس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں دلِ خشیت الہٰی سے لرزنے لگتا ہے اور اس پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔
امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے تفسی کبیر مین فرشتوں کے زمین پر اترنے کی متددد وجوہ تحریر فرمائی ہیں جن میں سے چند شطور ملاحظہ ہوں۔
١۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا تھا یہ مخلوق زمین میں فساد پھیلائے گی اور خونریزی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ انسان کی عزت و عظمت واضح کرنے کے لیے فرشتون کو نازل فرماتا ہے کہ جاؤ اور دیکھو جن کے متعلق تم نے یہ کہا تھا وہ کیا کررہے ہیں۔ دیکھ لو میرے بندے اس رات میں بستر و آرام کو چھوڑ کر میری خاطر عبادات میں مشغول ہیں اور مجھے راضی کرنے کے لیے آنسو بہاتے دعائیں مانگ رہے ہیں حالانکہ شبِ بیداری ان کے لیے فرض یا واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ بھی نہیں صرف میرے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیب دینے پر یہ اپنی نیند و آرام قربان کرکے ساری رات کے قیام پر مستعد ہیں۔ پھر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور مومن کی عظمت کوسلام کرتے ہیں۔
٢۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ جنت میں ان کے پاس فرشتے آئیں گے۔ اور انہیں سلام کریں گے شبِ قدر میں فرشتوں کو نازل فرمانے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ رب تعالیٰ گویا یہ بتانا چاہتا ہے اے میرے بندوں! اگر تم دنیا میں میری عبادت میں مشغول رہے تو تمہارے پاس رحمت کے فرشتے آئیں گے اور تمہاری زیارت کرکے وہ تمھیں سلام کریں گے۔
٣۔ اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر کی فضیلت و برکت اہلِ امین کے لیے رکھی جو یہاں رب تعالیٰ کی عبادت کریں،چنانچہ فرشتے اسی لیے زمین پر آتے ہیں تاکہ وہ بھی یہاں آکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور شبِ قدر کے کثیر اجر و ثواب کے مستحق ہاجائیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص مکہ مکرمہ اس نیت سے جائے کہ وہاں عبادت کا اجر و ثواب زیادہ ملا ہے اسی طرح فرشتے شبِ قدر میں زمین پر اترتے ہیں۔
٤۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب اکابر علماء اور عابد و زاہد لوگ موجود ہوں تو وہ خلوت کے مقابلے میں بہتر طریقے سے عبادت اور اطاعت الہٰی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے اس شب میں عبادت کرنے والوں سے مصافحہ کرتے یں اور ان کی دعاؤ ں پر آمین کہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے''۔ (فضائل الاوقات للبیہقی ص ٢١٥)
علماء فرماتے ہیں کہ شبِ قدر میں عبادت کرنے والوں سے جب حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے سلام و مصافحہ کرتے ہیں تو اس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں دلِ خشیت الہٰی سے لرزنے لگتا ہے اور اس پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔
امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے تفسی کبیر مین فرشتوں کے زمین پر اترنے کی متددد وجوہ تحریر فرمائی ہیں جن میں سے چند شطور ملاحظہ ہوں۔
١۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے کہا تھا یہ مخلوق زمین میں فساد پھیلائے گی اور خونریزی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ انسان کی عزت و عظمت واضح کرنے کے لیے فرشتون کو نازل فرماتا ہے کہ جاؤ اور دیکھو جن کے متعلق تم نے یہ کہا تھا وہ کیا کررہے ہیں۔ دیکھ لو میرے بندے اس رات میں بستر و آرام کو چھوڑ کر میری خاطر عبادات میں مشغول ہیں اور مجھے راضی کرنے کے لیے آنسو بہاتے دعائیں مانگ رہے ہیں حالانکہ شبِ بیداری ان کے لیے فرض یا واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ بھی نہیں صرف میرے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیب دینے پر یہ اپنی نیند و آرام قربان کرکے ساری رات کے قیام پر مستعد ہیں۔ پھر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور مومن کی عظمت کوسلام کرتے ہیں۔
٢۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ جنت میں ان کے پاس فرشتے آئیں گے۔ اور انہیں سلام کریں گے شبِ قدر میں فرشتوں کو نازل فرمانے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ رب تعالیٰ گویا یہ بتانا چاہتا ہے اے میرے بندوں! اگر تم دنیا میں میری عبادت میں مشغول رہے تو تمہارے پاس رحمت کے فرشتے آئیں گے اور تمہاری زیارت کرکے وہ تمھیں سلام کریں گے۔
٣۔ اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر کی فضیلت و برکت اہلِ امین کے لیے رکھی جو یہاں رب تعالیٰ کی عبادت کریں،چنانچہ فرشتے اسی لیے زمین پر آتے ہیں تاکہ وہ بھی یہاں آکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور شبِ قدر کے کثیر اجر و ثواب کے مستحق ہاجائیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص مکہ مکرمہ اس نیت سے جائے کہ وہاں عبادت کا اجر و ثواب زیادہ ملا ہے اسی طرح فرشتے شبِ قدر میں زمین پر اترتے ہیں۔
٤۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب اکابر علماء اور عابد و زاہد لوگ موجود ہوں تو وہ خلوت کے مقابلے میں بہتر طریقے سے عبادت اور اطاعت الہٰی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
تعیین شبِ قدر
شب قدر کی تعیین میں آئمہ دین کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ جلیل القدر تابعی امام اعظم ابو حنیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ایک قول یہ ہے کہ شبِ قدر تمام سال میں کسی بھی رات کو ہوستی ہے۔ صحابہ کرام میں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا یہی قول ہے۔ امام اعظم کا دوسرا قول یہ ہے کہ یہ رمضان کی ٢٧ ویں شب میں ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمھما اللہ تعالیٰ کا قول یہ ہے کہ شبِ قدر رمضان کی کسی متعین رات میں ہوتی ہے۔ علمائے شافعیہ کا قول یہ ہے کہ اس کا ٢١ ویں شب میں ہونا اقرب ہے۔ امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے کسی سال کسی رات میں اور کسی سال کسی دوسری رات میں۔
شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک ان کا قول زیادہ صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ یہ تمام سال میں کسی بھی رات کو ہوسکتی ہے کیونکہ میں نے شبِ قدر کو دو مرتبہ شعبان میںپایا ہے ایک بار ١٥ شعبان کو اور دوسری بار ١٩ شعبان کو اور دو مرتبہ رمضان کے درمیانی عشرے مین ١٣ اور ١٨ رمضان کو اور رمضان کے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں اسے پایا ہے اس لیے یہ پورے سال مین کسی بھی رات کو ہو سکتی ہے البتہ ماہِ رمضان میں یہ بکثرت آتی ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شبِ قدر سال میں دو مرتبہ ہوتی ہے ایک وہ جس میں احکام الہٰی نازل ہوتے ہیں اور اسی رات میں قرآن کریم لوحِ محفوظ سے اتارا گیا۔ یہ رات سال بھر میں کسی بھی شب ہوسکتی ہے لیکن جس سال قرآن کریم نازل ہوا اس سال یہ رات رمضان المبارک میں تھی اور یہ اکثر رمضان المبارک میں ہی ہوتی ہے۔ دوسری شبِ قدر وہ ہے جس میں ملائکہ بکثرت زمین پر اترتے ہیں۔ روحانیت عروج پر ہوتی ہے عبادات اور دعائیں قبول ہوتی ہیں یہ ہر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اور بدلتی رہتی ہے۔
شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک ان کا قول زیادہ صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ یہ تمام سال میں کسی بھی رات کو ہوسکتی ہے کیونکہ میں نے شبِ قدر کو دو مرتبہ شعبان میںپایا ہے ایک بار ١٥ شعبان کو اور دوسری بار ١٩ شعبان کو اور دو مرتبہ رمضان کے درمیانی عشرے مین ١٣ اور ١٨ رمضان کو اور رمضان کے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں اسے پایا ہے اس لیے یہ پورے سال مین کسی بھی رات کو ہو سکتی ہے البتہ ماہِ رمضان میں یہ بکثرت آتی ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شبِ قدر سال میں دو مرتبہ ہوتی ہے ایک وہ جس میں احکام الہٰی نازل ہوتے ہیں اور اسی رات میں قرآن کریم لوحِ محفوظ سے اتارا گیا۔ یہ رات سال بھر میں کسی بھی شب ہوسکتی ہے لیکن جس سال قرآن کریم نازل ہوا اس سال یہ رات رمضان المبارک میں تھی اور یہ اکثر رمضان المبارک میں ہی ہوتی ہے۔ دوسری شبِ قدر وہ ہے جس میں ملائکہ بکثرت زمین پر اترتے ہیں۔ روحانیت عروج پر ہوتی ہے عبادات اور دعائیں قبول ہوتی ہیں یہ ہر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اور بدلتی رہتی ہے۔
اب چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
١۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے''شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو''۔ (بخاری،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٥٠)
٢۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عہن، سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی ٢١۔ ٢٣۔ ٢٥۔ ٢٧۔ ٢٩ ویں رات میںہوتی ہے۔ جو ثواب کی نیت سے اس رات مٰن عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے۔ صاف شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے اس کے بعد کی صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے۔ بالکل ہموار ٹکیہ کیطرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے''۔ (مسند احمد جلد ٥ ص ٣٢٤،مجمع الزوائد جلد ٣ ص ١٧٥)
٣۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''شبِ قدر کو آخری عشرے میں ٢٥ ویں،٢٧ویں،اور ٢٩ ویں راتوں میں تلاش کرو''۔ (بخاری،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٥٠)
١۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے''شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو''۔ (بخاری،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٥٠)
٢۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عہن، سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی ٢١۔ ٢٣۔ ٢٥۔ ٢٧۔ ٢٩ ویں رات میںہوتی ہے۔ جو ثواب کی نیت سے اس رات مٰن عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے۔ صاف شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔ نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارے جاتے۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے اس کے بعد کی صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے۔ بالکل ہموار ٹکیہ کیطرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے''۔ (مسند احمد جلد ٥ ص ٣٢٤،مجمع الزوائد جلد ٣ ص ١٧٥)
٣۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''شبِ قدر کو آخری عشرے میں ٢٥ ویں،٢٧ویں،اور ٢٩ ویں راتوں میں تلاش کرو''۔ (بخاری،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٥٠)
٢٧ ویں شب
کثیر علماء کے نزدیک ٢٧ ویں شب،شب قدر ہوتی ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے یہی مروی ہے۔ (خزائن العرفان) ٢٧ ویں شب کے لیلۃ القدر ہونے کی تائید میں مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
١۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''شبِ قدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے''۔ (سنن ابو داؤد ج ١ ص ١٩٧،صحیح ابنِ حبان ج ٨ ص ٤٣٧،سنن الکبریٰ للبیہقی جلد ٤ ص ٣١٢) امام بیہقی نے فرمایا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
٢۔ حضرت زر بن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے پوچھا آپ کے بھائی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ارشاد ہے کہ جو سال بھر شبِ بیداری کرے وہ شبِ ق در پالے گا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ لوگ ایک ہی رات پر قناعت نہ کرلیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور وہ ٢٧ ویں شب ہے پھر آپ نے قسم فرمایا،''شب قدر ستائیسویں رات ہے''۔ (صحیح مسلم،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٥١)
٣۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے صحابہ کرام سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا تو سب نے مختلف جواب دیے۔ میں نے عرض کی یہ آخری عشرے کی ساتویں رات یعنی ٢٧ ویں شب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عدد سات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا فرمائے۔ سات زمینیں بنائیں۔ انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی اور سات چیزیں بطور اس کی غذا کے پیدا فرمائیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے کہ ٢٧ ویں شب لیلۃ القدر ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٣٠)
٤۔ دوسری روایت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سبع مثانی(سورہ فاتحہ) عطا فرمائی جس کی ٧ آیتیں ہیں جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ بھی سات ہیں۔ قرآن میں میراث میں سات لوگوں کے حصے بیان فرمائے۔ سفا مروہ کے چکر سات ہیں۔ طواف کے چکر بھی سات ہیں۔ (تفسیر در المنثور)
٥۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ ''لیلۃ القدر'' میں کل نو حروف ہیں اور یہ سورۃ القدر میں تین مرتبہ آیا ہے ٩ کو ٣ سے ضرب دیں تو ٢٧ آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر مین ٢٧ ویں شب ہی ہے۔ (تفسیر کبیر)
٦۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ایک غلام بحری جہازوں کا ملاح رہا تھا وہ ان سے کہنے لگا ایک چیز میرے تجربے میں بہت عجیب ہے وہ یہ کہ سال میں ایک رات سمندرکا کھارا پانی میٹھا ہوجاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا جب وہ رات آئے تو مجھے ضرور بتانا رمضان کی ستائیسویں شب کو اس نے کہا یہ وہی رات ہے۔ (تفسیر کبیر،تفسیر عزیزی)
٧۔ جلیل القدر تابعی حضرت عبدہ بن ابی لبابہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں،''میں نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں سمندر کا پانی چکھا تو وہ نہایت میٹھا تھا''حضرت یحییٰ بن ابی میسرہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں،''میں نے ٢٧ ویں شب میں خانہئ کعبہ کا طواف کیا میں نے دیکھا کہ فرشتے فضا میںبیت اللہ کا طواف کررہے ہیںض''۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٣٢)
٨۔ غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی قدس سرہ بھی اسی خیال کے قائل تھے کہ ٢٧ ویں شب کو شبِ قدر ہوتی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء و فقہاء کے نزدیک رمضان کی ستائیسویں شب میں قرآن کریم ختم کرنا مستحسن ہے تاکہ شب قدر کی برکتیں بھی حاصل ہوجائیں کیونکہ اکثر محدثین نے احادیث بیان کی ہیں کہ ٢٧ ویں شب میں شبِ قدر ہے''۔ (ماثبت من السنہ ٢١٥)
اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اول تو ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم ماہِ رمضان کی تمام راتوں کے آخری حصہ میں ذوق و شوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور خوب دعائیں مانگیں۔ کم از کم نمازِ تہجد پورا ماہ ضرور ادا کریں۔ پھر کوشش کرکے آخری عشرہ کی تمام راتوں کو عبادتِ الہٰی میں گزاریں اور شبِ قدر تلاش کریں۔ ورنہ کم از کم ٢٧ ویں شب کو تو ضرور تمام رات رضائے الہٰی کے لیے عبادت و دعا میں مصروف رہیں۔ رب تعالیٰ ہم سب کو شبِ قدر کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین
١۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''شبِ قدر رمضان کی ستائیسویں شب ہے''۔ (سنن ابو داؤد ج ١ ص ١٩٧،صحیح ابنِ حبان ج ٨ ص ٤٣٧،سنن الکبریٰ للبیہقی جلد ٤ ص ٣١٢) امام بیہقی نے فرمایا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
٢۔ حضرت زر بن حبیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے پوچھا آپ کے بھائی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ارشاد ہے کہ جو سال بھر شبِ بیداری کرے وہ شبِ ق در پالے گا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ لوگ ایک ہی رات پر قناعت نہ کرلیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور وہ ٢٧ ویں شب ہے پھر آپ نے قسم فرمایا،''شب قدر ستائیسویں رات ہے''۔ (صحیح مسلم،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٥١)
٣۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے صحابہ کرام سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا تو سب نے مختلف جواب دیے۔ میں نے عرض کی یہ آخری عشرے کی ساتویں رات یعنی ٢٧ ویں شب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عدد سات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا فرمائے۔ سات زمینیں بنائیں۔ انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی اور سات چیزیں بطور اس کی غذا کے پیدا فرمائیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا میرا بھی یہی خیال ہے کہ ٢٧ ویں شب لیلۃ القدر ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٣٠)
٤۔ دوسری روایت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سبع مثانی(سورہ فاتحہ) عطا فرمائی جس کی ٧ آیتیں ہیں جن عورتوں سے نکاح حرام ہے وہ بھی سات ہیں۔ قرآن میں میراث میں سات لوگوں کے حصے بیان فرمائے۔ سفا مروہ کے چکر سات ہیں۔ طواف کے چکر بھی سات ہیں۔ (تفسیر در المنثور)
٥۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ ''لیلۃ القدر'' میں کل نو حروف ہیں اور یہ سورۃ القدر میں تین مرتبہ آیا ہے ٩ کو ٣ سے ضرب دیں تو ٢٧ آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر مین ٢٧ ویں شب ہی ہے۔ (تفسیر کبیر)
٦۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ایک غلام بحری جہازوں کا ملاح رہا تھا وہ ان سے کہنے لگا ایک چیز میرے تجربے میں بہت عجیب ہے وہ یہ کہ سال میں ایک رات سمندرکا کھارا پانی میٹھا ہوجاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا جب وہ رات آئے تو مجھے ضرور بتانا رمضان کی ستائیسویں شب کو اس نے کہا یہ وہی رات ہے۔ (تفسیر کبیر،تفسیر عزیزی)
٧۔ جلیل القدر تابعی حضرت عبدہ بن ابی لبابہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں،''میں نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں سمندر کا پانی چکھا تو وہ نہایت میٹھا تھا''حضرت یحییٰ بن ابی میسرہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں،''میں نے ٢٧ ویں شب میں خانہئ کعبہ کا طواف کیا میں نے دیکھا کہ فرشتے فضا میںبیت اللہ کا طواف کررہے ہیںض''۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٣٢)
٨۔ غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی قدس سرہ بھی اسی خیال کے قائل تھے کہ ٢٧ ویں شب کو شبِ قدر ہوتی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء و فقہاء کے نزدیک رمضان کی ستائیسویں شب میں قرآن کریم ختم کرنا مستحسن ہے تاکہ شب قدر کی برکتیں بھی حاصل ہوجائیں کیونکہ اکثر محدثین نے احادیث بیان کی ہیں کہ ٢٧ ویں شب میں شبِ قدر ہے''۔ (ماثبت من السنہ ٢١٥)
اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اول تو ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم ماہِ رمضان کی تمام راتوں کے آخری حصہ میں ذوق و شوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور خوب دعائیں مانگیں۔ کم از کم نمازِ تہجد پورا ماہ ضرور ادا کریں۔ پھر کوشش کرکے آخری عشرہ کی تمام راتوں کو عبادتِ الہٰی میں گزاریں اور شبِ قدر تلاش کریں۔ ورنہ کم از کم ٢٧ ویں شب کو تو ضرور تمام رات رضائے الہٰی کے لیے عبادت و دعا میں مصروف رہیں۔ رب تعالیٰ ہم سب کو شبِ قدر کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین
شبِ قدر مخفی کیوں؟
لوگ اکثر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ شبِ قدر کو مخفی رکھنے میں کیا حکمتیں ہیں؟ جواب یہ ہے کہ اصل حکمتیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ وہ جواب ہے جو صحابہ کرام علیہم الرضوان بارگاہِ نبوی میں اس وقت دیا کرتے جب انہیں کسی سوال کے جواب کا قطعی علم نہ ہوتا۔ وہ فرماتے اللہ و رسولہ اعلم۔ (بخاری،مسلم،مشکوٰۃ کتاب الایمان)
غیب بتانے والے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شبِ قدر کے مخفی ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
١۔ اگر شبِ قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے۔ اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے۔ اب لوگ آکری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔
٢۔ شبِ قدر ظاہر کردینے کی صورت میں گر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ
دلجمعی سے عبادت نہ کر پاتا۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں۔
٣۔ اگر شبِ قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے اس طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاکہ اس شب میں عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجر و ثواب پائیں اور اپنی جہالت و کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہسے باز نہ آئیں تو انہیں شبِ قدر کی توہیں کرنے کا گناہ نہ ہو۔
٤۔ جیسا کہ نزولِ ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو مومن کی عظمت بتانے کے لیے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فکر کرتا ہے۔ شبِ قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فخر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بنا پر عبادت و اطاعت مٰن اتنی محنت و سعی کررہے ہیں اگر انہیں بتا دیا جاتا کہ یہی شبِ قدر ہے تو پھر ان کی عبادت و نیاز مندی کا کیا حال ہوتا۔
٥۔ شبِ قدر کا مخفی رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے اس لیے موت کا وقت مخفی رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحمہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاق رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہیے کہ شاید یہی شبِ قدر ہو اس طرح شبِ قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الہٰی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کے باعث بہت سی اہم چیزوں کو مخفی رکھا ہے۔ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ
١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کو عبادت و اطاعت میں مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں۔
٢۔ اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں۔
٣۔ اپنے اولیاء کو مومنوں کو مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں۔
٤۔ دعا کی قبولیت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ کثرت کے ساتھ مختلف دعائیں مانگا کریں۔
٥۔ اسمِ اعظم کو مخفی رکھا تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں۔
٦۔ صلوٰۃِ الوسطی (درمیانی نماز) کو مخفی رکھا تاکہ لوگ سب نمازوںکی حفاظت کریں۔
٧۔ موت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ ہر وقت خدا سے ڈرتے رہیں۔
٨۔ توبہ کی قبولیت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو توبہ کرتے رہیں۔
٩۔ ایسے ہی شبِ قدر کو مخفی رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں۔
غیب بتانے والے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض و برکات سے اکتساب فیض کرتے ہوئے علمائے کرام نے شبِ قدر کے مخفی ہونے کی بعض حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
١۔ اگر شبِ قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو کوتاہ ہمت لوگ اسی رات کی عبادت پر اکتفا کرلیتے۔ اور دیگر راتوں میں عبادات کا اہتمام نہ کرتے۔ اب لوگ آکری عشرے کی پانچ راتوں میں عبادت کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں۔
٢۔ شبِ قدر ظاہر کردینے کی صورت میں گر کسی سے یہ شب چھوٹ جاتی تو اسے بہت زیادہ حزن و ملال ہوتا اور دیگر راتوں میں وہ
دلجمعی سے عبادت نہ کر پاتا۔ اب رمضان کی پانچ طاق راتوں میں سے دو تین راتیں اکثر لوگوں کو نصیب ہو ہی جاتی ہیں۔
٣۔ اگر شبِ قدر کو ظاہر کردیا جاتا تو جس طرح اس رات میں عبادت کا ثواب ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے اس طرح اس رات میں گناہ بھی ہزار درجہ زیادہ ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاکہ اس شب میں عبادت کریں وہ ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ اجر و ثواب پائیں اور اپنی جہالت و کم نصیبی سے اس شب میں بھی گناہسے باز نہ آئیں تو انہیں شبِ قدر کی توہیں کرنے کا گناہ نہ ہو۔
٤۔ جیسا کہ نزولِ ملائکہ کی حکمتوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو مومن کی عظمت بتانے کے لیے زمین پر نازل فرماتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں پر فکر کرتا ہے۔ شبِ قدر ظاہر نہ کرنے کی صورت میں فخر کرنے کا زیادہ موقع ہے کہ اے ملائکہ دیکھو! میرے بندے معلوم نہ ہونے کے باوجود محض احتمال کی بنا پر عبادت و اطاعت مٰن اتنی محنت و سعی کررہے ہیں اگر انہیں بتا دیا جاتا کہ یہی شبِ قدر ہے تو پھر ان کی عبادت و نیاز مندی کا کیا حال ہوتا۔
٥۔ شبِ قدر کا مخفی رکھنا اسی طرح سمجھ لیجئے جیسے موت کا وقت نہ بتانا۔ کیونکہ اگر موت کا وقت بتا دیا جاتا تو لوگ ساری عمر نفسانی خواہشات کی پیروی میں گناہ کرتے اور موت سے عین پہلے توبہ کرلیتے اس لیے موت کا وقت مخفی رکھا گیا تاکہ انسان ہر لمحمہ موت کا خوف کرے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیکی میں مصروف رہے اسی طرح آخری عشرے کی ہر طاق رات میں بندوں کو یہی سوچ کر عبادت کرنی چاہیے کہ شاید یہی شبِ قدر ہو اس طرح شبِ قدر کی جستجو میں برکت والی پانچ راتیں عبادت الہٰی میں گزارنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بے شمار حکمتوں اور مصلحتوں کے باعث بہت سی اہم چیزوں کو مخفی رکھا ہے۔ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ
١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کو عبادت و اطاعت میں مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں۔
٢۔ اس نے اپنے غصہ کو گناہوں میں مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ ہر قسم کے گناہوں سے بچیں۔
٣۔ اپنے اولیاء کو مومنوں کو مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ سب ایمان والوں کی تعظیم کریں۔
٤۔ دعا کی قبولیت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ کثرت کے ساتھ مختلف دعائیں مانگا کریں۔
٥۔ اسمِ اعظم کو مخفی رکھا تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہر نام مبارک کی تعظیم کریں۔
٦۔ صلوٰۃِ الوسطی (درمیانی نماز) کو مخفی رکھا تاکہ لوگ سب نمازوںکی حفاظت کریں۔
٧۔ موت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ ہر وقت خدا سے ڈرتے رہیں۔
٨۔ توبہ کی قبولیت کو مخفی رکھا تاکہ لوگ جس طرح ممکن ہو توبہ کرتے رہیں۔
٩۔ ایسے ہی شبِ قدر کو مخفی رکھا تاکہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں۔
شبِ قدر کی اہمیت
شبِ قدر اتنی زیادہ خیر و برکت والی رات ہے کہ غیب بتانے والے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''ماہِ رمضان میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس رات سے محروم رہا وہ ساری خیر سے محروم رہا''۔ (سنن نسائی،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٢٦)
مذکورہ حدیث پاک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے جب کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس رات سے محروم رہا وہ ساری بھلائی سے محروم رہا۔ اور جو اس کی بھلائی سے محروم رہا وہ ببالکل ہی محروم او ر کم نصیب ہے''۔ (سنن ابنِ ماجہ،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٢٧)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ،''جو شبِ قدر مٰن ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں''۔ (بخاری و مسلم،مشکوٰۃجلد ١ ص ٢٢٥)
بعض احادیث مبارکہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص ماہِ رمضان میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرتا رہے تو اسے شب قدر کی کچھ برکتیں ضرور نصیب ہوتی ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''جس نے رمضان کے پورے مہینے میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کیں اس نے شبِ قدر کا کسی قدر حصہ پالیا۔ (شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٤٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے پورے ماہِ رمضان میں عشاء کی نمازجماعت کے ساتھ پڑھی گویا اس نے شبِ قدر کو پالیا''۔ (ایضاً)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کے لیے کم از کم اہتمام ضرور کیا جائے کہ ماہِ رمضان میں ان تمام نمازوں اور خصوصاً مغرب اور عشاء کی نمازیں ضرور بالضرور جماعت کے ساتھ پڑھیں اور اس اہتمام کے علاوہ آخرے عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو بھی ضرور کریں۔
ہم سب کے آقا و مولیٰ حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہِ رمضان میں یہ معمول تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت میں اس قدر مشقت فرماتے جو دیگر ایام میں نہ کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے کی تمام راتوں میں نہ صرف شبِ بیداری کرتے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ (بخاری،مسلم،مشکوٰۃ جلد١ ص ٤٥١)
غور فرمائیے جب اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کے صدقے و طفیل ہم گناہگاوں کی بخشش ہونی ہے،آخری عشرے میں عبادات میں مشقتیں اٹھاتے تھے تو ہم اور آپ آخری عشرے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کیوں نہ اپنائیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
مذکورہ حدیث پاک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے جب کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''اس ماہ میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس رات سے محروم رہا وہ ساری بھلائی سے محروم رہا۔ اور جو اس کی بھلائی سے محروم رہا وہ ببالکل ہی محروم او ر کم نصیب ہے''۔ (سنن ابنِ ماجہ،مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٢٧)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ،''جو شبِ قدر مٰن ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں''۔ (بخاری و مسلم،مشکوٰۃجلد ١ ص ٢٢٥)
بعض احادیث مبارکہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص ماہِ رمضان میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرتا رہے تو اسے شب قدر کی کچھ برکتیں ضرور نصیب ہوتی ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''جس نے رمضان کے پورے مہینے میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کیں اس نے شبِ قدر کا کسی قدر حصہ پالیا۔ (شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٤٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے پورے ماہِ رمضان میں عشاء کی نمازجماعت کے ساتھ پڑھی گویا اس نے شبِ قدر کو پالیا''۔ (ایضاً)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کے لیے کم از کم اہتمام ضرور کیا جائے کہ ماہِ رمضان میں ان تمام نمازوں اور خصوصاً مغرب اور عشاء کی نمازیں ضرور بالضرور جماعت کے ساتھ پڑھیں اور اس اہتمام کے علاوہ آخرے عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کی جستجو بھی ضرور کریں۔
ہم سب کے آقا و مولیٰ حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہِ رمضان میں یہ معمول تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت میں اس قدر مشقت فرماتے جو دیگر ایام میں نہ کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے کی تمام راتوں میں نہ صرف شبِ بیداری کرتے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ (بخاری،مسلم،مشکوٰۃ جلد١ ص ٤٥١)
غور فرمائیے جب اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن کے صدقے و طفیل ہم گناہگاوں کی بخشش ہونی ہے،آخری عشرے میں عبادات میں مشقتیں اٹھاتے تھے تو ہم اور آپ آخری عشرے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کیوں نہ اپنائیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

No comments:
Post a Comment
تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔