کلام ؛ فخرالاولیاء،نازشِ عرفا،قطبِ عالم ، نیاز بے نیاز،حضرت والا منزلت شاہ نیاز احمد علوی بریلوی قادری چشتی فخری نظامی صابری سہروردی نقشبندی قدس سرہ العزیز
مہر رویت نہ ہمیں دیدۂ حیرانم سوخت
گرمی شعلۂ حسنِ تو دل و جانم سوخت
تیرے چہرہ کے سورج نے نہ صرف میری حیران آنکھوں کو جلادیا بلکہ تیرے حسن کے شعلہ کی گر می نے میری جان و دل کو بھی جلادیا ہے
شمع ساں بر سر بزمت ہمہ عمرم میسوز
لیک یک لحظہ بہجرانِ تو نتوانم سوخت
تیری بزم میں ساری زندگی شمع کی طرح جلتا رہا لیکن تیرے ہجر میں جلنا ایک لمحہ کے لئے بھی ممکن نہیں
نیست انصاف کہ بزم تو بر افروز و شمع
مہر پرور بحضورت بہ ازاں دانم سوخت
یہ کوئی انصاف نہیں کہ شمع تو تیری بزم کو روشن کئے ہوئے ہےاور میں سمجھوں کہ مہر پرور (سورج کی خصوصیت رکھنے والا)تیری موجودگی میں اس سے جل جائے
دلِ مجموعِ من از غنچۂ لب بند خوشت
ہرزہ خندیدن گلہائی گلستانم سوخت
میرا مطمئن دل لب کی بند کلی سے خوش ہے(کہ اس نے)میرے گلستاں کے پھولوں کی فضول ہنسی کو جلادیا
منکہ پروانہ نمط سوزے و سازے دارم
غلغل و شور سحر گاہی مرغانم سوخت
میں نے کہ جسے پروانے کی طرح سوز و ساز حاصل ہےصبح کی چڑیوں کے شور و غل کو جلادیا
لالہ زار جگرم رشکِ بہارِ ارم ست
نو بہار عجبے صحنِ گلستانم سوخت
میرے جگر کا لالہ زار جنت کی بہاروں کے لئے باعث رشک ہے(لیکن)ایک عجیب نو بہار نے میرے گلستاں کے صحن کو جلادیا
دفتر دعویِ تقدیس ملائک یکسر
شعلۂ آتش عشق دل انسانم سوخت
فرشتوں کے تقدس کے دفتر کو انسان کے دل کے شعلۂ عشق نے مکمل جلادیا
گذر قافلہا یک نفس آسودہ نداشت
غم آوارگی گرد بیابانم سوخت
قافلوں کی گزر کو ایک لمحہ بھی سکون نہیں میرے صحرا کی خاک کو غمِ آوارگی نے جلادیا
فلک افلاک بسیلاب سر شکم در چرخ
بود تا چشم سہیلت یم طوفانم سوخت
تمام آسمانوں کا آسمان میری آنکھوں کے سیلاب سےگردش میں تھا (لیکن)تیری ستاروں جیسی آنکھوں نے اس سمندری طوفان کو جلادیا
بلبلم در قفس و دُور ز گلشن بہ بہار
در چمن نغمۂ مرغانِ خوش الحانم سوخت
میری بلبل بہار کے موسم میں قفس میں ہے اور گلشن سے دور ہے۔باغ کے خوش الحان پرندوں کے نغموں نے اسے جلادیا
کاروانم ہمہ بگزشت و من و تنہائی
غم و اماندگی از قافلہ یارانم سوخت
میرا سارا کارواں گزر گیا اب میں ہوں اور تنہائی ہے دوستوں کے قافلہ سے بچھڑنے کے غم نے مجھے جلادیا
داغ برقست قرارِ دلِ بیتاب نیاز
جانِ بارانِ گہر چشم در افشانم سوخت
اے نیاز برق کا داغ اب دلِ بیتاب کا قرار ہےموتیں کی بارش نے میری موتی برساتی آنکھ کو جلا دیا
مہر رویت نہ ہمیں دیدۂ حیرانم سوخت
گرمی شعلۂ حسنِ تو دل و جانم سوخت
تیرے چہرہ کے سورج نے نہ صرف میری حیران آنکھوں کو جلادیا بلکہ تیرے حسن کے شعلہ کی گر می نے میری جان و دل کو بھی جلادیا ہے
شمع ساں بر سر بزمت ہمہ عمرم میسوز
لیک یک لحظہ بہجرانِ تو نتوانم سوخت
تیری بزم میں ساری زندگی شمع کی طرح جلتا رہا لیکن تیرے ہجر میں جلنا ایک لمحہ کے لئے بھی ممکن نہیں
نیست انصاف کہ بزم تو بر افروز و شمع
مہر پرور بحضورت بہ ازاں دانم سوخت
یہ کوئی انصاف نہیں کہ شمع تو تیری بزم کو روشن کئے ہوئے ہےاور میں سمجھوں کہ مہر پرور (سورج کی خصوصیت رکھنے والا)تیری موجودگی میں اس سے جل جائے
دلِ مجموعِ من از غنچۂ لب بند خوشت
ہرزہ خندیدن گلہائی گلستانم سوخت
میرا مطمئن دل لب کی بند کلی سے خوش ہے(کہ اس نے)میرے گلستاں کے پھولوں کی فضول ہنسی کو جلادیا
منکہ پروانہ نمط سوزے و سازے دارم
غلغل و شور سحر گاہی مرغانم سوخت
میں نے کہ جسے پروانے کی طرح سوز و ساز حاصل ہےصبح کی چڑیوں کے شور و غل کو جلادیا
لالہ زار جگرم رشکِ بہارِ ارم ست
نو بہار عجبے صحنِ گلستانم سوخت
میرے جگر کا لالہ زار جنت کی بہاروں کے لئے باعث رشک ہے(لیکن)ایک عجیب نو بہار نے میرے گلستاں کے صحن کو جلادیا
دفتر دعویِ تقدیس ملائک یکسر
شعلۂ آتش عشق دل انسانم سوخت
فرشتوں کے تقدس کے دفتر کو انسان کے دل کے شعلۂ عشق نے مکمل جلادیا
گذر قافلہا یک نفس آسودہ نداشت
غم آوارگی گرد بیابانم سوخت
قافلوں کی گزر کو ایک لمحہ بھی سکون نہیں میرے صحرا کی خاک کو غمِ آوارگی نے جلادیا
فلک افلاک بسیلاب سر شکم در چرخ
بود تا چشم سہیلت یم طوفانم سوخت
تمام آسمانوں کا آسمان میری آنکھوں کے سیلاب سےگردش میں تھا (لیکن)تیری ستاروں جیسی آنکھوں نے اس سمندری طوفان کو جلادیا
بلبلم در قفس و دُور ز گلشن بہ بہار
در چمن نغمۂ مرغانِ خوش الحانم سوخت
میری بلبل بہار کے موسم میں قفس میں ہے اور گلشن سے دور ہے۔باغ کے خوش الحان پرندوں کے نغموں نے اسے جلادیا
کاروانم ہمہ بگزشت و من و تنہائی
غم و اماندگی از قافلہ یارانم سوخت
میرا سارا کارواں گزر گیا اب میں ہوں اور تنہائی ہے دوستوں کے قافلہ سے بچھڑنے کے غم نے مجھے جلادیا
داغ برقست قرارِ دلِ بیتاب نیاز
جانِ بارانِ گہر چشم در افشانم سوخت
اے نیاز برق کا داغ اب دلِ بیتاب کا قرار ہےموتیں کی بارش نے میری موتی برساتی آنکھ کو جلا دیا

No comments:
Post a Comment
تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔