Free Translation Widget

Monday, November 7, 2011

حضرت آدم اور محبوبِ خدا کا وسیلہ

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۝۳۷

(سورۃ البقرۃ آیت   (37

ترجمہ : پھر سیکھ لئے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی ، بیشک وہی ہے بہت توبہ 

قبول کرنے والا مہربان

تفسیر ۔۔۔۔

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت 

داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ 

السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے 

بڑھ گئے۔ (خازن)


  طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب 

حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت 

پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ میں جان لیا کہ 

بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے 

ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا ۔لہذا آپ نے اپنی دعا میں '' رَبَّنَا ظَلَمْنَا ۔۔۔۔۔۔ 

۔۔۔۔۔۔ ''الآیہ ' کے ساتھ یہ عرض کیا '' اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ '' ۔

ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔ '' اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ 

تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ '' یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و 

مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں 

۔

 یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی۔

 مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز 

اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے۔

  مسئلہ : اللّٰہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی 

تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا '' مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ 

وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ''۔

 حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی 

زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ 

کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز)

مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللّٰہ ہے۔

 اس کے تین رکن ہیں:

 ایک اعتراف جرم ۔دوسرے ندامت۔ تیسرے عزم ترک۔

 اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلاً تارک صلٰوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا 

پڑھنا بھی ضروری ہے۔

 توبہ کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا 

اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔

(فتح العزیز)

1 comment:

تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔