اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ۶۲
(سورۃ یونس آیت 62 )
ترجمہ : سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم
تفسیر ۔۔۔۔۔۔۔
ولی کی اصل ولاء سے ہے جو قرب و نصرت کے معنی میں ہے ۔
ولی اللّٰہ وہ ہے جو فرائض سے قُرب الٰہی حاصل کرے او راطاعتِ الٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دل نورِ جلالِ الہٰی کی معرِفت میں مستغرق ہو۔
جب دیکھے دلائلِ قدرتِ الٰہی کو دیکھے اور جب سنے اللّٰہ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے ربّ کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے طاعتِ الہٰی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے اسی امر میں کوشش کرے جو ذریعۂ قُربِ الٰہی ہو ، اللّٰہ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ، یہ صفت اولیاء کی ہے ۔
بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللّٰہ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے ۔
متکلِّمین کہتے ہیں ولی وہ ہے جو اعتقادِ صحیح مبنی بر دلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو ۔
بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت نام ہے قُربِ الٰہی اور ہمیشہ اللّٰہ کے ساتھ مشغول رہنے کا ۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے ۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللّٰہ یاد آئے یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے ۔
ابنِ زید نے کہا کہ ولی وہی ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس آیت میں مذکور ہے۔ '' اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ '' یعنی ایمان و تقوٰی دونوں کا جامع ہو ۔
بعض عُلَماء نے فرمایا کہ ولی وہ ہیں جو خالص اللّٰہ کے لئے مَحبت کریں ، اولیاء کی یہ صفَت احادیثِ کثیرہ میں وارِد ہوئی ہے
بعض اکابر نے فرمایا ولی وہ ہیں جو طاعت سے قُربِ الٰہی کی طلب کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالٰی کرامت سے ان کی کار سازی فرماتا ہے یا وہ جن کی ہدایت کا برہان کے ساتھ اللّٰہ کفیل ہو اور وہ اس کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی خَلق پر رحم کرنے کے لئے وقف ہو گئے ۔
یہ معانی اور عبارات اگرچہ جداگانہ ہیں لیکن ان میں اختلاف کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عبارت میں ولی کی ایک ایک صفَت بیان کر دی گئی ہے جسے قُربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے یہ تمام صفات اس میں ہوتے ہیں ۔ ولایت کے درجے اور مراتب میں ہر ایک بقدر اپنے درجے کے فضل و شرف رکھتا ہے ۔

No comments:
Post a Comment
تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔