صَلٰوةُ اﷲِ ثَنَآؤُه عَلَيهِ عِندَ مَلَائِكَةِ
(بخاری، الصحيح، کتاب التفسير، تفسير سورة الاحزاب، 4 : 282)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو العالیہ تابعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اﷲ تعاليٰ کی طرف سے درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے،
اﷲ تعاليٰ ملائکہ کے اجتماع میں (اپنی شان کے لائق) اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بیان کرتا ہے۔
کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان وہی جانے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شان سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعاليٰ کو اپنی شان کے مطابق علم تھا کہ میں نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرتے رہنا ہے، لہذا پہلے ہی نام محمد ﷺ رکھ دیا یعنی وہ ذات جس کی بار بار اور بے حد و حساب تعریف کی جائے۔
مذکورہ حدیث میں
ثَنَاؤُه عَلَيْهِ عِنْدَ مَلَائِكَةِ
(ملائکہ کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بیان کرنا) سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کے بے حد و حساب اجتماع میں اﷲ تعاليٰ ان کے سامنے اپنی شان کے لائق اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان بیان کرتا ہے گویا سارا عرش، ملاء اعليٰ اور پوری کائنات گوشۂ درود ہے جس میں اﷲ تعاليٰ فرشتوں کو بلا کر ارشاد فرماتا ہے کہ آؤ! میرے ساتھ شریک ہو جاؤ۔

No comments:
Post a Comment
تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔