Free Translation Widget

Thursday, November 24, 2011

ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری ۔۔۔۔۔1211ء-1294ء


قصیدۂ بردہ شریف (عربی:قصيدة البردة) ایک شاعرانہ کلام ہے جوکہ مصر کے معروف صوفی شاعر ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری (1211ء-1294ء) نے تحریر فرمایا۔ آپ کی تحریر کردہ یہ شاعری پوری اسلامی دنیا میں نہایت معروف ہے۔
امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ (1211ء-1294ء) پورا نام ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصیری ایک مصری شاعر تھے جوکہ مصر میں ہی رہے، جہاں اُنہوں نے ابنِ حناء کی سرپرستی میں شاعرانہ کلام لکھے۔ اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔
اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصیدہ بردہ شریف ہے جوکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت، مدحت و ثناء خوانی پر مبنی ہے اور اسلامی دنیا میں نہایت مشہور و مقبولِ عام ہے۔
قصیدۂ بردہ شریف کے لکھنے پر بھی ایک واقعہ ہے کہ اس قصیدے کو لکھنے سے پہلے، امام بوصیری کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھے۔ اسی عالم میں آپ نے حالات سے پریشان ہوکر داد رسی کے لئے یہ قصیدہ تحریر فرمایا، اُسی شب امام بوصیری کو خواب میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امام بوصیری کو اپنی کملی عنایت فرمائی۔ دوسرے دن جب امام بوصیری پیدار ہوئے تو وہ کملی آپ کے جسم پر موجود تھی اور آپ مکمل طور پر صحتیاب ہوچکے تھے۔
تصوف اور ولیوں کے ماننے والے مسلمانوں نے شروع ہی سے اس کلام کو بے حد عزت و توقیر دی۔ اس کلام کو حفظ کیا جاتا ہے اور مذہبی مجالس و محافل میں پڑھا جاتا ہے اور اس کے اشعار عوامی شہرت کی حامل عمارتوں میں مسجدوں میں خوبصورت خطاطی میں لکھے جاتے ہیں۔
تصوف اور ولیوں کے ماننے والے مسلمانوں نے شروع ہی سے اس کلام کو بے حد عزت و توقیر دی۔ اس کلام کو حفظ کیا جاتا ہے اور مذہبی مجالس و محافل میں پڑھا جاتا ہے اور اس کے اشعار عوامی شہرت کی حامل عمارتوں میں مسجدوں میں خوبصورت خطاطی میں لکھے جاتے ہیں۔ کچھ مسلمانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر قصیدہ بردہ شریف سچی محبت اور عقیدت کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ بیماریوں سے بچاتا ہے اور دلوں کو پاک کرتا ہے۔ اب تک اس کلام کی نوے (90) سے زائد تشریحات تحریر کی جاچکی ہیں اور اس کے تراجم فارسی، اردو، ترکی، بربر، پنجابی، انگریزی، فرینچ، جرمنی، سندھی و دیگر بہت سے زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔





No comments:

Post a Comment

تبصرہ لکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔