السلام علیکم
کافی عرصہ قبل ایک آرٹیکل ترتیب دیا تھا، مگر پھر میں مذہبی بحث مباحثہ سے الگ ہو گئی اور یہ آرٹیکل شائع نہ ہو سکا۔
میلاد النبی کا وقت آیا اور ہر فورم میں مجھے میلاد النبی پر لگتے بدعت کے فتوے نظر آئے تو مجھے یہ بھولا ہوا آرٹیکل یاد آیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ فتنہ اتنا پھیل چکا ہے کہ آج اخبارات میں اور میڈیا پر کھلے عام آ کر مخالف حضرات میلاد النبی پر بدعت کے فتوے لگاتے ہوئے میلاد النبی کے جلوسوں پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسی بدعت کے نام پر ہی انہوں نے خود کش حملہ آور تیار کیے ہیں جو میلاد النبی اور عاشورہ کے جلوسوں پر بدعت کے نام پر خود کو بموں سے اڑا کر سینکڑوں معصوموں کی جانیں لے رہے ہوتے ہیں۔
اس آرٹیکل کی اشاعت کا آغاز محترم شاکر القادری صاحب کے فورم سے کر رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان قلیل عبادات کو قبول فرمائے اور ہماری توفیقات میں اضافہ فرمائے۔امین۔
اہلحدیث حضرات(جنہیں سلفی اور وہابی حضرات بھی کہا جاتا ہے) کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ "ظاہر پرستی" کی بیماری کا شکار ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بدعت کی شریعت میں "اصطلاحی"معنی کو رد کرتے ہوئے "ظاہری" معنوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں، اور اس وجہ سے بُرے طریقے سے "تضادات" کا شکار ہیں۔اس ظاہر پرستی کی وجہ سے انہوں نے اسلام میں بہت سے نفلی عبادتی افعال کو بھی بدعت و ضلالت بنا تے ہوئے اپنی نئی شریعت جاری کر دی ہے۔
اسلام میں "نفلی عباداتی" افعال کا تصور
نفلی عبادتی افعال وہ ہیں جو کہ شریعت کے کسی "بنیادی اصول" کے تحت جائز قرار پاتے ہیں ، (اور اس کی کوئی شرط نہیں کہ قرآن و سنت میں انکا کوئی براہ راست حکم پہلے سے موجود ہو )۔ صحابہ کرام ایسے "نئے " نفلی عباداتی افعال اپنے اجتہاد کی بنیاد پر انجام دیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ان نئے افعال پر بدعت و ضلالت کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ مثلاً:
صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء (آنلائن لنک)
یہ فتویٰ جاری کر کے اہلحدیث حضرات بذات خود بدعت و ضلالت کا شکار ہیں اور "حلال اللہ" کو اپنی طرف سے "حرام اللہ" بنا رہے ہیں (یعنی اللہ نے ایسے نیک نفلی عبادتی افعال کو اپنی شریعت میں حلال رکھا ہے، مگر یہ لوگ اپنی شریعت جاری کرتے ہوئے ان مباح افعال کو حرام بنا رہے ہیں)۔
ان میں سے کچھ جو واقعی جہل کا شکار ہیں انکا کا اگلا فتویٰ یہ آ جاتا ہے کہ "ذکر" صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے ، چنانچہ رسول کا ذکر شرک ہے۔ حالانکہ انکے جہل کے برعکس اللہ نے قرآن میں بذات خود فرما دیا ہے کہ "رفعنا لک ذکرک (القرآن 94:4)" ۔۔۔ یعنی اے رسول میں (اللہ ) نے تمہارا "ذکر" بلند کیا ہے۔ چنانچہ حبیبِ خدا کا ذکر کرنا ہرگز ہرگز شرک نہیں ہے بلکہ اسے شرک کہنا جہالت کی انتہا ہے۔
اسلام میں کسی نئی سنتِ حسنہ یا نئی سنتِ سیئہ (بدعت) کا جاری کرنا
صحيح مسلم ، کتاب العلم ، (آنلائن لنک)
صحيح البخاري، کتاب الصلح:
صحابہ کرام نے اسی قانون پر عمل کرتے ہوئے، اپنے ذاتی اجتہاد اور رائے سے کئی نئےنیک مباح عباداتی افعال (سنتِ حسنہ) انجام دیے کہ جن کا نام لیکر رسول ﷺ نے انہیں کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ مگر چونکہ وہ نئی چیزیں اس امر (دین) میں سے تھیں اور اس کے اصولوں کے مطابق تھیں، اس لیے جب رسول ﷺ کو ان نئے نفلی عباداتی افعال کا پتا چلا تو آپ نے اس پر اُن کو اجرِ عظیم کی بشارت عطا فرمائی۔
اذان سے قبل درود پڑھنا بالمقابل حضرت بلالؓ کا اذان کے بعداپنی طرف سے دو رکعت نماز ادا کرنے کا رواج
اور اہلحدیث حضرات تو اذان سے قبل اور بعد میں رسول اللہ ﷺ پر صلوۃ (درو) پڑھنے کو بدعتِ ضلالۃ قرار دیتے ہیں، مگر ذیل میں حضرت بلالؓ کا فعل دیکھئے جہاں وہ اپنے اجتہاد کے مطابق اذان کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کا فعل اپنے اجتہاد کی بنیاد پر انجام دے رہے ہیں کیونکہ یہ ایک شریعت میں "مباح" عمل ہے۔ نیز وضو کرنے کے بعد بھی آپ اپنے ذاتی اجتہاد کے مطابق دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور یہ بھی ایک نیا فعل تھا جو وہ اپنے اجتہاد سے انجام دیتے تھے۔امام حاکم نے اس روایت کو شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
مستدرک علی الصحیحین (آنلائن لنک)
1220 - أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري ، ثنا عبد الله بن علي الغزال ، ثنا علي بن الحسن بن شقيق ، ثنا الحسين بن واقد ، ثنا عبد الله بن بريدة ، عن أبيه ، قال : أصبح رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - يوما ، فدعا بلالا ، فقال : " يا بلال بم سبقتني إلى الجنة ؟ إني [ ص: 621 ] دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك أمامي " . فقال بلال : يا رسول الله ، ما أذنت قط إلا صليت ركعتين ، وما أصابني حدث قط إلا توضأت عنده ، فقال رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - : " بهذا " .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ، ولم يخرجاه .
ترجمہ:
1۔ صحیح ابن خزیمہ (آنلائن لنک)
حضرت بلالؓ کی یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی موجود ہے جس میں حضرت بلال کا یہ اجتہاد درج ہے کہ وہ (وضو) کی پاکی حاصل کرنے کے بعد اپنے اجتہاد کے مطابق اتنی نماز پڑھتے تھے جتنی انکے مقدر میں لکھا ہوتا تھا۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1150 (آنلائن لنک)
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے انہوں نے ابو حیان یحیٰی بن سعید سے انہوں نے ابو زرعہ ہرم بن جریر سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے صبح کی نماز کے وقت بلالؓ سے فرمایا بلالؓ مجھ سے کہہ تو نے اسلام کے زمانے میں سب سے زیادہ امید کا کونسا نیک کام کیا ہے۔ کیونکہ میں نے بہشت میں اپنے آگے تیرے جوتوں کی پھٹ پھٹ کی آواز سنی۔ بلالؓ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے (نفل) نماز پڑھتا رہا جتنی میری تقدیر میں لکھی تھی۔
امام ابن حجر العسقلانی (جن کاخلف محدثین میں وہی مقام ہے جو امام بخاری کا سلف محدثین میں) بخاری کی اس روایت کی شرح میں لکھتے ہیں (آنلائن لنک):
ويستفاد منه جواز الاجتهاد في توقيت العبادة، لأن بلالا توصل إلى ما ذكرنا بالاستنباط فصوبه النبي صلى الله عليه وسلم
ترجمہ:
اس حدیث میں جواز ہے کہ عبادات کے اوقات کے لیے انسان ذاتی اجتہاد کو استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ بلالؓ اپنے استنباط کے تحت اس عمل کو کر رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے (بعد میں پتا چلنے پر) انکی تائید کی۔
چنانچہ اہلحدیث حضرات جو ہم پر اذان سے قبل اور بعد میں درود بھیجنے پر بدعت و ضلالت کے فتوے لگاتے ہیں، وہ دیکھ لیں کہ حضرت بلالؓ اپنے ذاتی اجتہاد سے اذان دینے کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتے تھے اور اسی طرح وضو کرنے کے بعد بھی ہمیشہ اپنے اجتہاد کے مطابق نفل نماز ادا کرتے تھے۔
صحابی کا اپنے اجتہاد کے مطابق نماز میں "ذکر" کے نئے کلمات ادا کرنا
صحیح بخاری، کتاب الاذان میں روایت درج ہے:
حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن نعيم بن عبد الله المجمر عن علي بن يحيى بن خلاد الزرقي عن أبيه عن رفاعة بن رافع الزرقي قال كنا يوما نصلي وراء النبي صلى الله عليه وسلم فلما رفع رأسه من الركعة قال سمع الله لمن حمده قال رجل وراءه ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فلما انصرف قال من المتكلم قال أنا قال رأيت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أول
ترجمہ:
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے نعیم بن عبد اللہ مجمر سے انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد زرقی سے انہوں نے اپنے باپ یحییٰ بن خلاد سے انہوں نے رفاعہ بن رافع زرقی صحابی سے انہوں نے کہا ہم ایک دن نبیﷺکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا سمع اللہ لمن حمدہ ۔ایک شخص نے آپ کے پیچھے یہ (نئے) کلمات کہے" ربنا ولک الحمد حمدًا کثیرًا طیِّباً مبارکاً فیہ" جب آپ نماز پڑھ چکے تو پوچھا ۔یہ کلام کس نے کیا تھا وہ شخص بولا میں نے آپ نے فرمایا میں نے کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا ہر ایک لپک رہا تھا کون پہلے اس کو لکھتا ہے ۔
حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الاذان ، حدیث نمبر 800 (آنلائن لنک)
ابن حجر العسقلانی (جن کے علمِ حدیث کے اہلحدیث حضرات تک قائل ہیں اور انکی کتاب فتح الباری تمام اہلحدیث مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) اس حدیث کی شرح میں اپنی کتاب فتح الباری میں لکھتے ہیں:
واستدل به على جواز إحداث ذكر في الصلاة غير مأثور إذا كان مخالف للمأثور
ترجمہ:
"اس حدیث میں ثبوت ہے کہ صلوۃ میں ذکر کے ایسے نئے کلمات ادا کیے جا سکتے ہیں جو کہ حدیث سے نہ بھی پہنچے ہوں، تاوقتیکہ وہ کسی حدیث کے مخالف نہ ہوں۔"
حوالہ: فتح الباری (آنلائن لنک)
اس صحابی نے اپنے اجتہاد سے ایک نیا فعل انجام دیا جو کہ مباح کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ وہ قرآن و حدیث کے کسی اصول کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ ایسے نئے افعال کو بدعت و ضلالت کہنا اہلحدیث حضرات کی سنت اور اپنی بنائی ہوئی شریعت تو ہو سکتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ نہیں ہے۔
حضرت خبیب ؓ کی سنت، قتل ہونے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے کا رواج بننا
صحیح بخاری، کتاب الجہاد و السیر(آنلائن لنک):
تراویح نماز ایک بہت نیک فعل ہے جس کا بہت بڑا اجر ہے۔ مگر:
یاد رکھیں، شریعت کو لے کر حضرت جبرئیل علیہ السلام صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے۔ یہ نہیں ہوا کہ شریعت کا کوئی حصہ کسی صحابی پر نازل کیا گیا ہو۔ اور جو خلفہ راشدین اور صحابہ کی سنت کی بات ہوتی ہے، اسکا مطلب ہوتا ہے کہ وہ صرف اور صرف رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس "نئے" عباداتی فعل کو 30 راتوں تک پھیلایا ہے کیونکہ اس میں کوئی قباحت نہیں، مگر اہلحدیث حضرات کی ظاہر پرستی کی بیماری کی وجہ سے بنائی گئی خود ساختہ شریعت میں ہر نیا نفلی عبادتی فعل بھی بدعت و ضلالت ہے۔
رمضان کی 30 راتوں پورے قرآن کو ختم کرنے کارواج
اہلحدیث حضرات سے ایک اور اہم سوال ہے :
شبینہ بالمقابل تراویح
پاکستان میں اہلسنت مساجد میں ہر سال رمضان کے مہینے کی آخری راتوں میں شبینہ پڑھنے کا اہتمام ہوتا ہے جس میں قرآن پھر دوسری مرتبہ بھی ختم کیا جاتا ہے۔ مگر اہلحدیث حضرات شبینہ میں شرکت نہیں کرتے اور انکا عذر ہوتا ہے کہ قرآن و سنت میں انہیں شبینہ کا وجود نہیں ملتا۔ مگر اہلحدیث حضرات کو دیکھنا چاہیے کہ اس لحاظ سے تو رمضان کی تیس راتوں میں تراویح کے دوران قرآن ختم کرنے کا حُکم بھی قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے۔ یہ کیا ڈبل سٹینڈرڈز ہوئے کہ ایک نئے عمل کو تو آپ "عملِ صالح" قرار دے دیں جبکہ دوسرے نئے فعل کو بدعت کو ضلالت قرار دے دیں؟
اذان سے قبل درود پڑھنا بالمقابل صحابہ کے ناموں کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہنا
اہلحدیث حضرات یہ فرمائیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کب حکم فرمایا کہ بعد میں آنے والی مسلمان نسلیں صحابہ کے نام کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہا کریں؟ نہ رسول ﷺ کے زمانے میں یہ رائج تھا، نہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے ناموں کے بعد یہ کہتے تھے، نہ تابعین صحابہ کے ناموں کے بعد یہ کہتے تھے۔۔۔ بلکہ یہ بعد میں آنے والی مسلمان نسلیں تھیں جنہوں یہ نیا رواج اپنی طرف سے جاری کیا۔ تو اب اہلحدیث حضرات اس نئےاپنی طرف سے بنائے گئے رواج کو بدعت و ضلالت کیوں نہیں کہتے؟
اہلحدیث حضرات اس پر زیادہ سے زیادہ یہ بہانہ کرتے ہیں کہ اللہ بیعت رضوان میں صحابہ سے "راضی" ہوا تھا، اور اس نے اس پر آیت نازل فرمائی تھی۔
جواباً عرض ہے کہ اللہ نے اس آیت میں صرف یہ کہا ہے کہ وہ صرف اس "فعل" پر راضی ہوا کہ جب انہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔ مگر اس آیت میں کہیں اللہ نے یہ حُکم نہیں دیا کہ صحابہ کے ناموں کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہنے کا رواج جاری کر دو۔ رسول اللہﷺ قرآن کے سب سے بہترین شارح تھے، انہوں نے بھی یہ آیت پڑھی مگر کبھی اس نتیجے پر نہیں پہنچے جس پر آج اہلحدیث پہنچ رہے ہیں (یعنی صحابہ کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ کہنا شروع کر دو)۔ صحابہ کرام نے بھی لاکھوں بار یہ آیت پڑھی مگر انہیں بھی اس چیز کا پتا نہیں جو کہ آج اہلحدیث حضرات بیان کر رہے ہیں (یعنی صحابہ کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ بولنے کا حکم دیا جا رہا ہے)۔ چنانچہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ بولتے تھے اور نہ ہی تابعین نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ۔ بلکہ یہ بعد میں آنے والی مسلمان نسلیں ہیں جو کہ اپنے اجتہاد کے مطابق صحابہ کرام کے ناموں کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہنے کی رسم جاری کر رہے ہیں۔
اگلا اہلحدیث بہانہ ہے کہ "رضی اللہ عنہ" ایک دعا ہے جو ہر وقت کی جا سکتی ہے۔
جواباً عرض ہے کہ جب ہم رسول ﷺ پر اذان سے قبل صلوۃ بھیج رہے ہوتے ہیں تو یہ بھی تو فقط دعا ہے۔ صلوۃ عربی کا لفظ ہے اور اسکے اپنے معنی "دعا" ہیں۔ یعنی جب ہم رسولﷺ پر صلوۃ بھیج رہے ہوتے ہیں تو اسکامطلب فقط یہ ہے کہ ہم اللہ سے رسولﷺ کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔
تو کیا وجہ ہے کہ وہ دعا (صلوۃ) جس کی تعلیم خود اللہ نے دی، وہ پڑھنا بدعت و ضلات بن جاتی ہے، مگر صحابہ کے ناموں کے بعد آپ کی اپنی گھڑی ہوئی دعا کا رواج جاری کرنا بدعت و ضلالت نہیں بنتا ہے (بلکہ بلاشبہ یہ بدعت و ضلالت ہے کیونکہ آپ لوگوں نے اپنی طرف سے "رضی اللہ عنہ" کو صرف اور صرف صحابہ کے لیے مخصوص کر کے دوسروں کے لیے اسے پڑھنے کی ممانعت کر دی ہے۔ یہ نیا قانون جاری کر کے آپ شریعت ساز بن گئے ہیں اور یہ ہے اصل بدعت و ضلالت)۔
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
اوپر حضرت بلال کی روایت بھی گذر چکی ہے کہ جہاں وہ اذان دینے کے بعد اپنے اجتہاد کے مطابق دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
مسند احمد بن حنبل، جلد 3 ( لنک):
تو اب دکھائیے کہ کہاں رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہے کہ ان کے پیالے سے پانی لے کر اپنے چہروں اور سروں پر ڈالا جائے اور ایسا کرتے ہوئے ایک اور نیا فعل کیا جائے اور وہ یہ کہ رسول ﷺ پر درود بھی بھیجا جائے۔ اور ادھر حالت یہ ہے کہ اہلحدیث حضرات اذان سے پہلے درود پڑھنے پر بدعت و ضلالت کے فتوے لگا کر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
ام المومنین حضرت ام سلمہ اور اہل مدینہ کا رسول ﷺ کے بالوں سےنظرِ بد اور بیماری سے شفا حاصل کرنا
رسول ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ام سلمہ (سلام اللہ علیہا) کے پاس رسول ﷺ کے چند بال تھے۔ اُنکا اور اہل مدینہ کا عمل یہ تھا کہ جب کوئی بیمار ہو جاتا تھا (یا کسی کو نظرِ بد لگ جاتی تھی) تو وہ ان بالوں سے مس شدہ پانی پیتا تھا تاکہ شفایاب ہو سکے۔ اب رسول ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ انکے وصال کے بعد یوں بیماری سے شفا حاصل کی جائے۔ مگر چونکہ یہ بات عام تھی کہ تبرکات نبوی میں برکت ہے، لہذا ام سلمہؑ اور اہل مدینہ اپنے اجتہاد سے یوں موئے مبارک کے ذریعے شفا حاصل کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری، کتاب اللباس:
حضرت انس کا اپنے اجتہاد سے موئے مبارک کو زبان کے نیچے رکھ کر دفن ہونا
علامہ ابن حجر العسقلانی، اپنی کتاب الاصابہ فی تمیز الصحابہ میں روایت نقل کرتے ہیں:
حضرت اسماء بنتِ ابی بکر کا اپنے اجتہاد سے رسول ﷺ کے جبے کے توسط سے شفا حاصل کرنا
صحیح مسلم، کتاب اللباس:
حضرت ابو ہریرہ کا نبی ﷺ کے پیالے سے برکت حاصل کرنا
صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ:
اگر آج ہم اذان سے قبل درود پڑھ لیں تو بدعت و ضلالت کے فتوے شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن ادھر صحابہ کا طرز عمل دیکھئے جہاں وہ اپنے اجتہاد سے رسول ﷺ کے پیالے میں بھرے پانی کو اپنے سروں پر چھڑک رہے ہیں اور پھر درود پڑھ رہے ہیں۔
مسند احمد بن حنبل، جلد 3 ( لنک):
تو اب دکھائیے کہ کہاں رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہے کہ ان کے پیالے سے پانی لے کر اپنے چہروں اور سروں پر ڈالا جائے اور ایسا کرتے ہوئے ایک اور نیا فعل کیا جائے اور وہ یہ کہ رسول ﷺ پر درود بھی بھیجا جائے۔ اور ادھر حالت یہ ہے کہ اہلحدیث حضرات اذان سے پہلے درود پڑھنے پر بدعت و ضلالت کے فتوے لگا کر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
صحابی کا اپنے اجتہاد سےعرقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبرکًا کفن میں لگانے کی وصیت
حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت امِ سلیم کے پاس ایک شیشی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک پسینہ اور چند موئے مبارک محفوظ تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے اپنے کفن میں اسی عرق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِ خوشبو لگانے کی وصیت کی، حضرت ثمامہ کا بیان ہے :
صحیح بخاری، کتاب الاستئذان:
مسند امام احمد بن حنبل :
شریعت کی اصطلاح میں "بدعت" کیا ہے
ہر وہ نئی چیز، جو شریعت کے کسی اصول کے خلاف جا رہی ہو، وہ بدعت کے زمرے میں آتی ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ ہر وہ عمل، جو کسی سنت کو ختم کر دے، وہ بدعت (سنتِ سئیہ) کے زمرے میں آجائے گا۔
رہبانیت اسی اصول کے تحت حرام قرار پائی۔ ذیل کی حدیث ملاحظہ فرمائیے:
شریعت کا پہلا اصول: کچھ چیزوں کو نام لے کر حلال/حرام کرنا، اور کچھ چیزوں کو ایک “بنیادی اصول” کی وجہ سے حلال/حرام قرار دینا
شریعت میں جو چیزیں نام لے کر حرام کی گئی ہیں، وہ واضح ہیں اور سب کو ان کا علم ہے۔مگر کچھ چیزیں ہیں کہ جن کا وجود رسول ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا۔ مثلاً “ہیروئن کا نشہ” رسول ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا۔ مگر ایک بنیادی اصول ہے کہ جو چیز بھی انسان کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دے، وہ حرام ہے۔ اور اس بنیادی اصول کی وجہ سے آج کے دور میں ہیروئن کا نشہ حرام قرار پایا۔
شریعت کا دوسرا اصول: اگر کوئی عمل رسول ﷺ کی کسی سنت کو ختم کر دے، تو وہ حرام ہے
رسول ﷺ کی حدیث ہے کہ ہر وہ عمل، جو کسی سنت کو ختم کر دے، وہ بدعت کے زمرے میں آ جائے گا۔رہبانیت اسی اصول کی وجہ سے اسلام میں حرام ٹہری۔
اس حدیث میں جو نئے کام حرام قرار پائے ہیں، وہ اس لیے نہیں حرام ٹہرائے گئے کیونکہ وہ “نئے” تھے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نئے اعمال اُس انتہا پر پہنچ گئے تھے کہ جس کی وجہ سے رسول ﷺ کی کچھ سنتیں ختم ہو رہی تھیں۔ مثلاً:
مگر اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے، جسے کچھ لوگ صحیح طریقے سے نہ سمجھنے کی وجہ سے خواہ مخواہ اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں۔
دیکھیں رسول ﷺ نے ان تین صحابہ کو یہ نہیں کہا کہ:
شریعت کا تیسرا اصول: ہر چیز اصل میں مباح ہے جبتک نص سے اسکی حرمت نہ ظاہر ہو
کون سا نیا کام بدعت ہے، اور کونسا نہیں، اس کو جاننے کے لیے بہت اہم ہے کہ ہم شریعت کے اس اصول کو اچھی طرح سمجھیں کہ دینِ اسلام میں ہر چیز اصل میں مباح ہے (یعنی اس کی اجازت ہے تاوقتیکہ کسی نص کی بنیاد پر اُس کام کو اللہ نے حرام نہ قرار دیا ہو)
مثلاً محمد و آلِ محمد (علیھم الصلوۃ و السلام) پر درود بھیجنا ایک بہت بابرکت عمل ہے۔ اب اگر کوئی شخص ہر کام کے آغاز سے پہلے (مثلاً اذان سے قبل) درود پڑھنا چاہے، تو کیا شریعت میں یہ عملِ حرام قرار دیا جائے گا؟
نہیں، ہرگز نہیں، کیونکہ:
اہلحدیث حضرات کا سنن دارمی کی ابن مسعود والی ضعیف روایت سے استدلال
اہلحدیث حضرات کے پاس لے دے کر اپنے مؤقف کی دلیل میں صرف ایک روایت ہے (ّجو صحابی ابن مسعود پر موقوف ہے)۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اول تو یہ روایت ضعیف ہے ، اور دوم یہ کہ ابن مسعود کی اس روایت کے مقابلے میں اوپر رسول اللہ ﷺ سے براہ راست صحیح روایات نقل ہو چکی ہیں جن کے مقابلے میں اس ضعیف روایت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، اور سوم یہ کہ ابن مسعود سے ہی زیادہ مستند روایت مروی ہے جہاں انکا مؤقف "ذکر" کے متعلق اس روایت کی نفی کر رہا ہے۔
پہلےسنن دارمی کی وہ روایت دیکھتے ہیں جو اہلحدیث حضرات پیش کرتے ہیں :
امام الذہبی اپنی کتاب المغنی فی الضعفاء میں راوی عمر ابن الھمدانی کے متعلق لکھتے ہیں:
اہلحدیث علماء کی کوشش کہ اس روایت کو صحیح ثابت کیا جائے
اس روایت کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، مگر پھراہلحدیث عالم شیخ سلیم الھلالی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے "صحیح" ثابت کیا جائے۔ اہلسنت عالم دین الحاج جبرئیل نے انکا جواب دیا ہے جو کہ ذیل میں پیش خدمت ہے، تاکہ تمام تر شکوک رفع ہو جائیں اور اہلحدیث حضرات کے پاس کوئی راہ فرار باقی نہ بچے۔
Answer by Hajj Gibril (link)
Recently I was shown by somebody a response by some Sheikh Saleem Al-Hilali regarding the Athaar of Ibn Masood. I have read in Sheikh Hishaam Kabaani's (damatay barka tahoum) book that the athaar from Darimi's book is WEAK because of Amr Ibn Yahaya al hamdaani. Saleem Al-Hilali says that this ATHAAR IS Saheeh. Because it has come from two chains. And Imaam Bukhari (rahmatullahi alayhi)has confirmed and Ibn Katheer has taken from that narrator and that here is no opposition (JARH). Could you please give details on this athaar.
The report of Ibn Mas`ud comes only through `Amr ibn Yahya al-Hamadani who is da`if.
Al
arimi in the Muqaddima of his Sunan, narrated from al-Hakam ibn al-Mubarak who narrates from `Amr ibn Salama al-Hamadani. This `Amr ibn
Yahya ibn `Amr ibn Salima al-Hamadani is da`if. Ibn Ma`in saw him and said: "his narrations are worth nothing"; Ibn Kharrash: "he is not accepted"; al
hahabi listed him among those who are weak and whose hadith is not retained in al
u`afa' wa al-Matrukin (p. 212 #3229), Mizan al-i`tidal (3:293), and al-Mughni fi al
u`afa' (2:491); and al-Haythami declared him weak (da`if) in Majma` al-Zawa'id, chapter entitled Bab al-`Ummal `ala al-Sadaqa.
As for the claim that Imam al-Bukhari said anything to authentify this report or to declare `Amr reliable, then where did they make such a claim? All Bukhari said in al-Tarikh al-Kabir (6:382 #270
is: "`Amr ibn Yahya ibn `Amr ibn Salama ibn al-Harith al-Hamadani al-Kufi, he heard hadith from his father, and Sa`id ibn Sulayman heard from him, and he is nicknamed Sinan." This does not constitute a commendation nor a discreditation. In fact, al-Bukhari was not even clear who this narrator was since he apparently confused him with the trustworthy narrator `Amr ibn Salama ibn al-Kharib al-Hamdani al-Jarmi as shown by the words of Ibn Abi Hatim in al-Jarh wa al-Ta`dil (6:235 #1302): "My father [Abu Hatim] said that al-Bukhari made a mistake over `Amr ibn Salama by confusing him with someone else called by that name whereas the latter is al-Jarmi while this one is al-Hamdani." This was confirmed by al-Khatib in Mawdi` Awham al-Jam` wa al-Tafriq (1:333), a book on the errors of the hadith masters caused by resemblance in names. Elsewhere (6:169 #1487) Ibn Abi Hatim narrates from his father, from Yahya ibn Ma`in, the grading of thiqa (trustworthy) for him. However, both Ibn al-Jawzi in al
u`afa' wa al-Matrukin (2:233 #2601) and Ibn `Adi in al-Kamil fi al
u`afa' (5:122 #1287) narrate two opposite verdicts from Yahya ibn Ma`in concerning him, and this is what al
hahabi retains in Mizan al-I`tidal (5:352 #6480) and al-Mughni fi al
u`afa' (2:491 #4729) as well as Ibn Hajar in Lisan al-Mizan (4:378 #112
. Both ignore Ibn Hibban's inclusion of `Amr among the trustworthy narrators in al-Thiqat (4:480 #14547).
Further, its authenticity was questioned by al-Suyuti in al-Hawi (2:31); al-Hifni in Fadl al-Tasbih wa al-Tahlil as cited by al-Lacknawi, Sibahat al-Fikr (p. 25 and 42-43);
Further, it is belied by Imam Ahmad's narration in al-Zuhd from Abu Wa'il who said: "Those who claim that `Abd Allah [= Ibn Mas`ud] forbade dhikr [are lying]: I never sat with him in any gathering except he made dhikr of Allah in it." Cited by al-Munawi in Fayd al-Qadir (1:457), al-Suyuti in Natijat al-Fikr fi al-Jahr bil
hikr in al-Hawi, al-Nabulusi in Jam` al-Asrar (p. 66), al-Hifni in Fadl al-Tasbih wa al-Tahlil as cited in al-Lacknawi, Sibahat al-Fikr (p. 25).
In addition, the narrations affirming loud dhikr are sahih and innumerable, and definitely take precedence over this mawquf report even if we should consider it authentic.
And Allah knows best.
Hajj Gibril
دارمی کی روایت ضعیف ہی نہیں، بلکہ منکر بھی ہے
منکر وہ روایت ہوتی ہے جو ضعیف بھی ہو اور کسی صحیح روایت کے مخالف بھی جا رہی ہو
صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء (آنلائن لنک)
اللھم صلی علی محمد و آل محمد
کافی عرصہ قبل ایک آرٹیکل ترتیب دیا تھا، مگر پھر میں مذہبی بحث مباحثہ سے الگ ہو گئی اور یہ آرٹیکل شائع نہ ہو سکا۔
میلاد النبی کا وقت آیا اور ہر فورم میں مجھے میلاد النبی پر لگتے بدعت کے فتوے نظر آئے تو مجھے یہ بھولا ہوا آرٹیکل یاد آیا۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ فتنہ اتنا پھیل چکا ہے کہ آج اخبارات میں اور میڈیا پر کھلے عام آ کر مخالف حضرات میلاد النبی پر بدعت کے فتوے لگاتے ہوئے میلاد النبی کے جلوسوں پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسی بدعت کے نام پر ہی انہوں نے خود کش حملہ آور تیار کیے ہیں جو میلاد النبی اور عاشورہ کے جلوسوں پر بدعت کے نام پر خود کو بموں سے اڑا کر سینکڑوں معصوموں کی جانیں لے رہے ہوتے ہیں۔
اس آرٹیکل کی اشاعت کا آغاز محترم شاکر القادری صاحب کے فورم سے کر رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان قلیل عبادات کو قبول فرمائے اور ہماری توفیقات میں اضافہ فرمائے۔امین۔
اہلحدیث حضرات(جنہیں سلفی اور وہابی حضرات بھی کہا جاتا ہے) کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ "ظاہر پرستی" کی بیماری کا شکار ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بدعت کی شریعت میں "اصطلاحی"معنی کو رد کرتے ہوئے "ظاہری" معنوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں، اور اس وجہ سے بُرے طریقے سے "تضادات" کا شکار ہیں۔اس ظاہر پرستی کی وجہ سے انہوں نے اسلام میں بہت سے نفلی عبادتی افعال کو بھی بدعت و ضلالت بنا تے ہوئے اپنی نئی شریعت جاری کر دی ہے۔
اسلام میں "نفلی عباداتی" افعال کا تصور
نفلی عبادتی افعال وہ ہیں جو کہ شریعت کے کسی "بنیادی اصول" کے تحت جائز قرار پاتے ہیں ، (اور اس کی کوئی شرط نہیں کہ قرآن و سنت میں انکا کوئی براہ راست حکم پہلے سے موجود ہو )۔ صحابہ کرام ایسے "نئے " نفلی عباداتی افعال اپنے اجتہاد کی بنیاد پر انجام دیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ان نئے افعال پر بدعت و ضلالت کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ مثلاً:
صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء (آنلائن لنک)
سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے مسجد میں (لوگوں کا) ایک حلقہ دیکھا تو پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا اللہ کی قسم! کیا تم اسی لئے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! صرف اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ میں نے تمہیں اس لئے قسم نہیں دی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا اور میرا رسول اللہﷺ کے پاس جو مرتبہ تھا، اس رتبہ کے لوگوں میں کوئی مجھ سے کم حدیث کا روایت کرنے والا نہیں ہے (یعنی میں سب لوگوں سے کم حدیث روایت کرتا ہوں)۔ ایک دفعہ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کے حلقہ پر نکلے اور پوچھا کہ تم کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ ہم اللہ جل و علا کی یاد کرنے کو بیٹھے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں اور شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی راہ بتلائی اور ہمارے اوپر احسان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی قسم! تم اسی لئے بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ اللہ کی قسم! ہم تو صرف اسی واسطے بیٹھے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس لئے قسم نہیں دی کہ تمہیں جھوٹا، سمجھا بلکہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں میں فخر کر رہا ہے۔
چنانچہ ثابت ہوا کہ:- یہ صحابہ کرام اپنی مرضی سےمحفل میں حلقے بنا کر "ذکر" کر رہے تھے۔
- اللہ کے رسول نے انہیں ایسا کرنے کا براہ راست کوئی حکم نہیں دیا تھا، بلکہ یہ صحابہ کرام کا اپنا اجتہاد تھا کہ بنیادی اصول اللہ کا ذکر کرنا ہے اور اسکا طریقہ یعنی محفل بنا کر ذکر کرنا عین مباح فعل ہے اور اسلام کی کسی بنیادی اصول سے نہیں ٹکراتا ہے۔
- اس ذکر کی محفل کے "وقت" کا تعین بھی ان صحابہ نے اپنی مرضی سے کیا تھا کیونکہ انہیں علم تھا کہ شریعت کا کوئی ایسا اصول نہیں ہے جو ایسے اوقات میں ذکر کی محفل کرنے کو حرام ٹہراتا ہے۔
- اور جب اللہ کے رسول ﷺ کو صحابہ کرام کے اس "نئے"نفلی عباداتی فعل کا علم ہوتا ہے تو آپ ﷺ اس پر بدعت و ضلالت کا فتویٰ لگانے کی بجائے ان صحابہ کرام کو فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی انکے اس "نئے فعل" کی وجہ سے فرشتوں میں فخر کر رہا ہے۔
یہ فتویٰ جاری کر کے اہلحدیث حضرات بذات خود بدعت و ضلالت کا شکار ہیں اور "حلال اللہ" کو اپنی طرف سے "حرام اللہ" بنا رہے ہیں (یعنی اللہ نے ایسے نیک نفلی عبادتی افعال کو اپنی شریعت میں حلال رکھا ہے، مگر یہ لوگ اپنی شریعت جاری کرتے ہوئے ان مباح افعال کو حرام بنا رہے ہیں)۔
ان میں سے کچھ جو واقعی جہل کا شکار ہیں انکا کا اگلا فتویٰ یہ آ جاتا ہے کہ "ذکر" صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے ، چنانچہ رسول کا ذکر شرک ہے۔ حالانکہ انکے جہل کے برعکس اللہ نے قرآن میں بذات خود فرما دیا ہے کہ "رفعنا لک ذکرک (القرآن 94:4)" ۔۔۔ یعنی اے رسول میں (اللہ ) نے تمہارا "ذکر" بلند کیا ہے۔ چنانچہ حبیبِ خدا کا ذکر کرنا ہرگز ہرگز شرک نہیں ہے بلکہ اسے شرک کہنا جہالت کی انتہا ہے۔
اسلام میں کسی نئی سنتِ حسنہ یا نئی سنتِ سیئہ (بدعت) کا جاری کرنا
صحيح مسلم ، کتاب العلم ، (آنلائن لنک)
جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ کچھ عربی بدو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔آپ ﷺ نے جب ان کو بری حالت میں دیکھا تو لوگوں کو کہا کہ اُن کو کچھ خیرات وغیرہ دیں، مگر لوگوں نے کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حتیٰ کہ رسول ﷺ کے چہرہ پر غصے کے آثار نمودار ہو گئے۔ پھر انصار میں سے ایک شخص اٹھا اور چاندی کے سکے دیے۔ پھر ایک اور شخص آیا اور پھر دوسرے لوگوں نے بھی اِس کام میں اُن کی پیروی کی، حتیٰ کہ رسول ﷺ کے چہرہ پر خوشی کے آثار نمودار ہو گئے۔ پھر رسول ﷺ نے فرمایا:اگر کسی شخص نے اسلام میں کسی سنتِ حسنہ کو متعارف کروایا، اور پھر دوسرے لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی، تو اُس کو اُن لوگوں کے اجر کا ثواب بھی ملے اور اُن لوگوں کے اپنے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔ اور اگر کسی شخص نے اسلام میں کسی سنتِ سئیہ کو متعارف کروایا، اور دوسرے لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی، تو اُس کو اُن لوگوں کا بھی گناہ ملے گا، اور اُن لوگوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔
چنانچہ:- ہر وہ نیا عمل، جو کہ دین کے اصولوں کے مطابق ہے اور اس کی تقویت کا باعث ہے، وہ سنتِ حسنہ کہلائے گا۔(اہلحدیث حضرات اسکو صرف خیرات تک محدود کر دیتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ آگے صحابہ کرام کے مزید واقعات پیش ہوں گے جہاں انہوں نے نئےنفلی عباداتی افعال کیے اور رسول ﷺ نے اس پر بدعت و ضلالت کے فتوے نہیں لگائے بلکہ اس پر خوش ہوئےاور اجرِ کثیر کی بشارت دی)
- اور ہر وہ نیا عمل، جو کہ دین کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس کی بربادی کا باعث ہے، وہ سنتِ سئیہ یا پھر بدعتِ ضلالت (گمراہی) کہلائے گا۔
صحيح البخاري، کتاب الصلح:
حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:جس نے اس امر (دین) میں ایسی نئی چیز کا اضافہ کیا جو کہ اس (امر) میں سے نہیں ہے، وہ چیز مردود ہے۔
پس رسول اللہ ﷺ نے ہر نئی چیز کو مردود نہیں قرار دیا، بلکہ صرف اُن نئی چیزوں کو مردود قرار دیا ہے جو اس امر (دین) میں سے نہیں ہیں، یعنی جو دین کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔اور ایسی تمام نئی چیزیں، جو اس امر (دین) سے ہیں (یعنی جن کی اصل دین میں پائی جاتی ہے اور جو دین کے اصولوں کے عین مطابق ہیں)، وہ مردود نہیں ہیں۔ صحابہ کرام نے اسی قانون پر عمل کرتے ہوئے، اپنے ذاتی اجتہاد اور رائے سے کئی نئےنیک مباح عباداتی افعال (سنتِ حسنہ) انجام دیے کہ جن کا نام لیکر رسول ﷺ نے انہیں کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ مگر چونکہ وہ نئی چیزیں اس امر (دین) میں سے تھیں اور اس کے اصولوں کے مطابق تھیں، اس لیے جب رسول ﷺ کو ان نئے نفلی عباداتی افعال کا پتا چلا تو آپ نے اس پر اُن کو اجرِ عظیم کی بشارت عطا فرمائی۔
اذان سے قبل درود پڑھنا بالمقابل حضرت بلالؓ کا اذان کے بعداپنی طرف سے دو رکعت نماز ادا کرنے کا رواج
اور اہلحدیث حضرات تو اذان سے قبل اور بعد میں رسول اللہ ﷺ پر صلوۃ (درو) پڑھنے کو بدعتِ ضلالۃ قرار دیتے ہیں، مگر ذیل میں حضرت بلالؓ کا فعل دیکھئے جہاں وہ اپنے اجتہاد کے مطابق اذان کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کا فعل اپنے اجتہاد کی بنیاد پر انجام دے رہے ہیں کیونکہ یہ ایک شریعت میں "مباح" عمل ہے۔ نیز وضو کرنے کے بعد بھی آپ اپنے ذاتی اجتہاد کے مطابق دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور یہ بھی ایک نیا فعل تھا جو وہ اپنے اجتہاد سے انجام دیتے تھے۔امام حاکم نے اس روایت کو شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
مستدرک علی الصحیحین (آنلائن لنک)
1220 - أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري ، ثنا عبد الله بن علي الغزال ، ثنا علي بن الحسن بن شقيق ، ثنا الحسين بن واقد ، ثنا عبد الله بن بريدة ، عن أبيه ، قال : أصبح رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - يوما ، فدعا بلالا ، فقال : " يا بلال بم سبقتني إلى الجنة ؟ إني [ ص: 621 ] دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك أمامي " . فقال بلال : يا رسول الله ، ما أذنت قط إلا صليت ركعتين ، وما أصابني حدث قط إلا توضأت عنده ، فقال رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - : " بهذا " .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ، ولم يخرجاه .
ترجمہ:
''اور حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد حضرت بلال کو طلب کیا اور (جب وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ 'کس عمل کے ذریعے تم نے جنت میں مجھ سے پیش روی اختیار کی ہے (کیونکہ) میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ''یا رسول اﷲ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ! میں نے جب بھی اذان دی ہے تو اس کے بعد دو رکعت نماز (ضرور) پڑھی ہے اور جب بھی میرا وضو ٹوٹا ہے میں نے اسی وقت وضو کر لیا اور میں نے اللہ کے واسطے دو رکعت نماز پڑھنی ضروری سمجھا ہے۔ (یعنی ہر وضو کے بعد پابندی کے ساتھ نماز پڑھنی میں نے اپنے اوپر لازم قرار دے رکھی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ''اسی وجہ سے تم اس عظیم درجہ کو پہنچے ہو۔''
(امام حاکم فرماتے ہیں) یہ روایت شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط کے مطابق "صحیح"حدیث ہے۔
مزید حوالہ جات:(امام حاکم فرماتے ہیں) یہ روایت شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط کے مطابق "صحیح"حدیث ہے۔
1۔ صحیح ابن خزیمہ (آنلائن لنک)
حضرت بلالؓ کی یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی موجود ہے جس میں حضرت بلال کا یہ اجتہاد درج ہے کہ وہ (وضو) کی پاکی حاصل کرنے کے بعد اپنے اجتہاد کے مطابق اتنی نماز پڑھتے تھے جتنی انکے مقدر میں لکھا ہوتا تھا۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر: 1150 (آنلائن لنک)
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے انہوں نے ابو حیان یحیٰی بن سعید سے انہوں نے ابو زرعہ ہرم بن جریر سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ نبیﷺ نے صبح کی نماز کے وقت بلالؓ سے فرمایا بلالؓ مجھ سے کہہ تو نے اسلام کے زمانے میں سب سے زیادہ امید کا کونسا نیک کام کیا ہے۔ کیونکہ میں نے بہشت میں اپنے آگے تیرے جوتوں کی پھٹ پھٹ کی آواز سنی۔ بلالؓ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے (نفل) نماز پڑھتا رہا جتنی میری تقدیر میں لکھی تھی۔
امام ابن حجر العسقلانی (جن کاخلف محدثین میں وہی مقام ہے جو امام بخاری کا سلف محدثین میں) بخاری کی اس روایت کی شرح میں لکھتے ہیں (آنلائن لنک):
ويستفاد منه جواز الاجتهاد في توقيت العبادة، لأن بلالا توصل إلى ما ذكرنا بالاستنباط فصوبه النبي صلى الله عليه وسلم
ترجمہ:
اس حدیث میں جواز ہے کہ عبادات کے اوقات کے لیے انسان ذاتی اجتہاد کو استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ بلالؓ اپنے استنباط کے تحت اس عمل کو کر رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے (بعد میں پتا چلنے پر) انکی تائید کی۔
چنانچہ اہلحدیث حضرات جو ہم پر اذان سے قبل اور بعد میں درود بھیجنے پر بدعت و ضلالت کے فتوے لگاتے ہیں، وہ دیکھ لیں کہ حضرت بلالؓ اپنے ذاتی اجتہاد سے اذان دینے کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتے تھے اور اسی طرح وضو کرنے کے بعد بھی ہمیشہ اپنے اجتہاد کے مطابق نفل نماز ادا کرتے تھے۔
صحابی کا اپنے اجتہاد کے مطابق نماز میں "ذکر" کے نئے کلمات ادا کرنا
صحیح بخاری، کتاب الاذان میں روایت درج ہے:
حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن نعيم بن عبد الله المجمر عن علي بن يحيى بن خلاد الزرقي عن أبيه عن رفاعة بن رافع الزرقي قال كنا يوما نصلي وراء النبي صلى الله عليه وسلم فلما رفع رأسه من الركعة قال سمع الله لمن حمده قال رجل وراءه ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فلما انصرف قال من المتكلم قال أنا قال رأيت بضعة وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أول
ترجمہ:
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے امام مالک سے انہوں نے نعیم بن عبد اللہ مجمر سے انہوں نے علی بن یحییٰ بن خلاد زرقی سے انہوں نے اپنے باپ یحییٰ بن خلاد سے انہوں نے رفاعہ بن رافع زرقی صحابی سے انہوں نے کہا ہم ایک دن نبیﷺکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا سمع اللہ لمن حمدہ ۔ایک شخص نے آپ کے پیچھے یہ (نئے) کلمات کہے" ربنا ولک الحمد حمدًا کثیرًا طیِّباً مبارکاً فیہ" جب آپ نماز پڑھ چکے تو پوچھا ۔یہ کلام کس نے کیا تھا وہ شخص بولا میں نے آپ نے فرمایا میں نے کچھ اوپر تیس فرشتوں کو دیکھا ہر ایک لپک رہا تھا کون پہلے اس کو لکھتا ہے ۔
حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الاذان ، حدیث نمبر 800 (آنلائن لنک)
ابن حجر العسقلانی (جن کے علمِ حدیث کے اہلحدیث حضرات تک قائل ہیں اور انکی کتاب فتح الباری تمام اہلحدیث مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) اس حدیث کی شرح میں اپنی کتاب فتح الباری میں لکھتے ہیں:
واستدل به على جواز إحداث ذكر في الصلاة غير مأثور إذا كان مخالف للمأثور
ترجمہ:
"اس حدیث میں ثبوت ہے کہ صلوۃ میں ذکر کے ایسے نئے کلمات ادا کیے جا سکتے ہیں جو کہ حدیث سے نہ بھی پہنچے ہوں، تاوقتیکہ وہ کسی حدیث کے مخالف نہ ہوں۔"
حوالہ: فتح الباری (آنلائن لنک)
اس صحابی نے اپنے اجتہاد سے ایک نیا فعل انجام دیا جو کہ مباح کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ وہ قرآن و حدیث کے کسی اصول کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ ایسے نئے افعال کو بدعت و ضلالت کہنا اہلحدیث حضرات کی سنت اور اپنی بنائی ہوئی شریعت تو ہو سکتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ کی سنت یہ نہیں ہے۔
حضرت خبیب ؓ کی سنت، قتل ہونے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے کا رواج بننا
صحیح بخاری، کتاب الجہاد و السیر(آنلائن لنک):
والله ما رأيت أسيرا قط خيرا من خبيب، والله لقد وجدته يوما يأكل من قطف عنب في يده، وإنه لموثق في الحديد، وما بمكة من ثمر وكانت تقول إنه لرزق من الله رزقه خبيبا، فلما خرجوا من الحرم ليقتلوه في الحل، قال لهم خبيب ذروني أركع ركعتين. فتركوه، فركع ركعتين ثم قال لولا أن تظنوا أن ما بي جزع لطولتها اللهم أحصهم عددا. ولست أبالي حين أقتل مسلما على أى شق كان لله مصرعي وذلك في ذات الإله وإن يشأ يبارك على أوصال شلو ممزع فقتله ابن الحارث، فكان خبيب هو سن الركعتين لكل امرئ مسلم قتل صبرا
یہ ایک طویل روایت ہے۔ حضرت خبیبؓ کو کفار نے پکڑ لیا اور انہیں قتل کرنے لگے تو اُس وقت یہ واقعہ پیش آیا کہ انہوں نے اپنے ذاتی اجتہاد سے کفار سے مہلت مانگی کہ انہیں قتل ہونے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنے دی جائے۔ حضرت خبیبؓ کا یہ نیا فعل (جسکا قرآن وسنت میں پہلے سے کوئی حکم موجود نہیں تھا) اتنا پسندیدہ تھا کہ یہ رواج قید میں قتل کیے جانے والے ہر مسلمان کے لیے مسنون بن گیا:حارث کی بیٹی نے کہا اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا اور اللہ کی قسم! میں نے تو ایک دن یہ دیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں تھا اور وہ انگور کھارہا تھا دراں حالیکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور اس وقت مکہ میں کوئی میوہ نہیں تھا اور وہ کہتی ہیں کہ یہ رزق من جانب اللہ نازل ہوا تھا جو اس نے خبیب کو دیا تھا پھر جب وہ لوگ حرم سے باہر چلے گئے تاکہ ان کو حرم کے باہر قتل کردیں تو خبیب نے ان سے کہا کہ مجھے اتنی مہلت دے دو کہ میں دو رکعت نماز پڑھ لوں اور انہوں نے ان کو چھوڑ دیا اور خبیب دو رکعت نماز سے فارغ ہو کر کہنے لگا کہ اگر تم کو یہ خیال نہ ہوتا کہ مجھے قتل کا خوف ہے تو ایک بہت لمبی نماز پڑھتا اور اے اللہ! ان کافروں کو گن گن کر مار (اور پھر کہا) مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں حالت اسلام میں شہید کیا جا رہا ہوں جس پہلو پر بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں پچھاڑا جاؤں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہے اگر وہ چاہے تو کٹے ہوئے اعضاء کے ٹکڑوں میں برکت دے دے۔ پھر ان کو ابن حارث نے قتل کردیا اور خبیب ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ہر مرد مسلمان کے لیے جو قید کرکے قتل کیا جائے دو رکعت نماز مسنون کردی ہے۔
اہلحدیث حضرات 30 راتوں تک باجماعت تراویح کیوں ادا کرتے ہیں؟تراویح نماز ایک بہت نیک فعل ہے جس کا بہت بڑا اجر ہے۔ مگر:
- رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے دوران یہ تراویح فقط "تین" راتوں تک ادا فرمائی۔ اہلحدیث حضرات یہ جواب دیں کہ انہیں یہ رمضان کی 30 راتوں والی تراویح کون سے قرآن یا حدیث میں ملتی ہے؟ (یاد رہے صحابہ کرام نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس فعل کو 30 راتوں تک پھیلایا ہے، مگر اہلحدیث حضرات کی ظاہر پرستی کی بیماری کے مطابق ایسے نئے افعال بدعت و ضلالت ہیں)۔
- مزید اہلحدیث حضرات یہ فرمائیں کہ انہوں نے باجماعت تراویح کی نماز کو فقط رمضان کی 30 راتوں تک ہی کیوں محدود کر دیا ہے۔ کیوں نہیں وہ پورے سال کے 365 دنوں یہ باجماعت تراویح کی نماز نہیں پڑھتے؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بتلایا ہے کہ باجماعت تراویح کی اجازت فقط رمضان کی 30 راتوں کے لیے ہے اور بقیہ مہینوں میں یہ پڑھنا حرام ہے؟
یاد رکھیں، شریعت کو لے کر حضرت جبرئیل علیہ السلام صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے۔ یہ نہیں ہوا کہ شریعت کا کوئی حصہ کسی صحابی پر نازل کیا گیا ہو۔ اور جو خلفہ راشدین اور صحابہ کی سنت کی بات ہوتی ہے، اسکا مطلب ہوتا ہے کہ وہ صرف اور صرف رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس "نئے" عباداتی فعل کو 30 راتوں تک پھیلایا ہے کیونکہ اس میں کوئی قباحت نہیں، مگر اہلحدیث حضرات کی ظاہر پرستی کی بیماری کی وجہ سے بنائی گئی خود ساختہ شریعت میں ہر نیا نفلی عبادتی فعل بھی بدعت و ضلالت ہے۔
رمضان کی 30 راتوں پورے قرآن کو ختم کرنے کارواج
اہلحدیث حضرات سے ایک اور اہم سوال ہے :
- یہ بتلائیں کہ کیا رسول ﷺ نے کبھی رمضان کی تیس راتوں میں باجماعت تراویح میں پورا قرآن ختم کیا تھا؟
- اگر نہیں، تو پھر یہ ہی دکھا دیں کہ رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہو کہ انکی وفات کے بعد آنے والی مسلم نسلیں یہ کام انجام دیں۔
شبینہ بالمقابل تراویح
پاکستان میں اہلسنت مساجد میں ہر سال رمضان کے مہینے کی آخری راتوں میں شبینہ پڑھنے کا اہتمام ہوتا ہے جس میں قرآن پھر دوسری مرتبہ بھی ختم کیا جاتا ہے۔ مگر اہلحدیث حضرات شبینہ میں شرکت نہیں کرتے اور انکا عذر ہوتا ہے کہ قرآن و سنت میں انہیں شبینہ کا وجود نہیں ملتا۔ مگر اہلحدیث حضرات کو دیکھنا چاہیے کہ اس لحاظ سے تو رمضان کی تیس راتوں میں تراویح کے دوران قرآن ختم کرنے کا حُکم بھی قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے۔ یہ کیا ڈبل سٹینڈرڈز ہوئے کہ ایک نئے عمل کو تو آپ "عملِ صالح" قرار دے دیں جبکہ دوسرے نئے فعل کو بدعت کو ضلالت قرار دے دیں؟
اذان سے قبل درود پڑھنا بالمقابل صحابہ کے ناموں کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہنا
اہلحدیث حضرات یہ فرمائیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کب حکم فرمایا کہ بعد میں آنے والی مسلمان نسلیں صحابہ کے نام کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہا کریں؟ نہ رسول ﷺ کے زمانے میں یہ رائج تھا، نہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کے ناموں کے بعد یہ کہتے تھے، نہ تابعین صحابہ کے ناموں کے بعد یہ کہتے تھے۔۔۔ بلکہ یہ بعد میں آنے والی مسلمان نسلیں تھیں جنہوں یہ نیا رواج اپنی طرف سے جاری کیا۔ تو اب اہلحدیث حضرات اس نئےاپنی طرف سے بنائے گئے رواج کو بدعت و ضلالت کیوں نہیں کہتے؟
اہلحدیث حضرات اس پر زیادہ سے زیادہ یہ بہانہ کرتے ہیں کہ اللہ بیعت رضوان میں صحابہ سے "راضی" ہوا تھا، اور اس نے اس پر آیت نازل فرمائی تھی۔
جواباً عرض ہے کہ اللہ نے اس آیت میں صرف یہ کہا ہے کہ وہ صرف اس "فعل" پر راضی ہوا کہ جب انہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی۔ مگر اس آیت میں کہیں اللہ نے یہ حُکم نہیں دیا کہ صحابہ کے ناموں کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہنے کا رواج جاری کر دو۔ رسول اللہﷺ قرآن کے سب سے بہترین شارح تھے، انہوں نے بھی یہ آیت پڑھی مگر کبھی اس نتیجے پر نہیں پہنچے جس پر آج اہلحدیث پہنچ رہے ہیں (یعنی صحابہ کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ کہنا شروع کر دو)۔ صحابہ کرام نے بھی لاکھوں بار یہ آیت پڑھی مگر انہیں بھی اس چیز کا پتا نہیں جو کہ آج اہلحدیث حضرات بیان کر رہے ہیں (یعنی صحابہ کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ بولنے کا حکم دیا جا رہا ہے)۔ چنانچہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ بولتے تھے اور نہ ہی تابعین نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ۔ بلکہ یہ بعد میں آنے والی مسلمان نسلیں ہیں جو کہ اپنے اجتہاد کے مطابق صحابہ کرام کے ناموں کے بعد "رضی اللہ عنہ" کہنے کی رسم جاری کر رہے ہیں۔
اگلا اہلحدیث بہانہ ہے کہ "رضی اللہ عنہ" ایک دعا ہے جو ہر وقت کی جا سکتی ہے۔
جواباً عرض ہے کہ جب ہم رسول ﷺ پر اذان سے قبل صلوۃ بھیج رہے ہوتے ہیں تو یہ بھی تو فقط دعا ہے۔ صلوۃ عربی کا لفظ ہے اور اسکے اپنے معنی "دعا" ہیں۔ یعنی جب ہم رسولﷺ پر صلوۃ بھیج رہے ہوتے ہیں تو اسکامطلب فقط یہ ہے کہ ہم اللہ سے رسولﷺ کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔
تو کیا وجہ ہے کہ وہ دعا (صلوۃ) جس کی تعلیم خود اللہ نے دی، وہ پڑھنا بدعت و ضلات بن جاتی ہے، مگر صحابہ کے ناموں کے بعد آپ کی اپنی گھڑی ہوئی دعا کا رواج جاری کرنا بدعت و ضلالت نہیں بنتا ہے (بلکہ بلاشبہ یہ بدعت و ضلالت ہے کیونکہ آپ لوگوں نے اپنی طرف سے "رضی اللہ عنہ" کو صرف اور صرف صحابہ کے لیے مخصوص کر کے دوسروں کے لیے اسے پڑھنے کی ممانعت کر دی ہے۔ یہ نیا قانون جاری کر کے آپ شریعت ساز بن گئے ہیں اور یہ ہے اصل بدعت و ضلالت)۔
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
{سورۃ 33، آیت 56} بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ رسول پر درود بھیجتے ہیں تو اے صاحبانِ ایمان تم بھی ان پر درود بھیجتے رہو اور سلام کرتے رہو
اگر بیعتِ رضوان والی آیت کافی ہے کہ جب بھی صحابہ کا نام آئے تو “رضی اللہ عنہ” بولا جائے، تو پھر درود والی آیت اس بات کے لیے کافی کیوں نہیں کہ اذان سے قبل رسول ﷺ پر درود بھیجا جائے؟اوپر حضرت بلال کی روایت بھی گذر چکی ہے کہ جہاں وہ اذان دینے کے بعد اپنے اجتہاد کے مطابق دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
''اور حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت فجر کی نماز کے بعد حضرت بلال کو طلب کیا اور (جب وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ 'کس عمل کے ذریعے تم نے جنت میں مجھ سے پیش روی اختیار کی ہے (کیونکہ) میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ''یا رسول اﷲ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ! میں نے جب بھی اذان دی ہے تو اس کے بعد دو رکعت نماز (ضرور) پڑھی ہے اور جب بھی میرا وضو ٹوٹا ہے میں نے اسی وقت وضو کر لیا اور میں نے اللہ کے واسطے دو رکعت نماز پڑھنی ضروری سمجھا ہے۔ (یعنی ہر وضو کے بعد پابندی کے ساتھ نماز پڑھنی میں نے اپنے اوپر لازم قرار دے رکھی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ''اسی وجہ سے تم اس عظیم درجہ کو پہنچے ہو۔''
(امام حاکم فرماتے ہیں) یہ روایت شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط کے مطابق "صحیح"حدیث ہے۔(آنلائن لنک)
اگر آج ہم اذان سے قبل درود پڑھ لیں تو بدعت و ضلالت کے فتوے شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن ادھر صحابہ کا طرز عمل دیکھئے جہاں وہ اپنے اجتہاد سے رسول ﷺ کے پیالے میں بھرے پانی کو اپنے سروں پر چھڑک رہے ہیں اور پھر درود پڑھ رہے ہیں۔(امام حاکم فرماتے ہیں) یہ روایت شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط کے مطابق "صحیح"حدیث ہے۔(آنلائن لنک)
مسند احمد بن حنبل، جلد 3 ( لنک):
12480 حدثنا روح بن عبادة، حدثنا حجاج بن حسان، قال كنا عند أنس بن مالك فدعا بإناء وفيه ثلاث ضباب حديد وحلقة من حديد فأخرج من غلاف أسود وهو دون الربع وفوق نصف الربع فأمر أنس بن مالك فجعل لنا فيه ماء فأتينا به فشربنا وصببنا على رءوسنا ووجوهنا وصلينا على النبي صلى الله عليه وسلم.
’’ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین مضبوط دستے اور ایک چھلا تھا۔ آپ نے اسے سیاہ غلاف سے نکالا، جو درمیانے سائز سے کم اور نصف چوتھائی سے زیادہ تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس میں ہمارے لیے پانی ڈال کر لایا گیا تو ہم نے پانی پیا اور اپنے سروں اور چہروں پر ڈالا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا۔‘‘
یہ ایک "صحیح" روایت ہے جسکے تمام راوی ثقہ ہیں (لنک)تو اب دکھائیے کہ کہاں رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہے کہ ان کے پیالے سے پانی لے کر اپنے چہروں اور سروں پر ڈالا جائے اور ایسا کرتے ہوئے ایک اور نیا فعل کیا جائے اور وہ یہ کہ رسول ﷺ پر درود بھی بھیجا جائے۔ اور ادھر حالت یہ ہے کہ اہلحدیث حضرات اذان سے پہلے درود پڑھنے پر بدعت و ضلالت کے فتوے لگا کر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
ام المومنین حضرت ام سلمہ اور اہل مدینہ کا رسول ﷺ کے بالوں سےنظرِ بد اور بیماری سے شفا حاصل کرنا
رسول ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ام سلمہ (سلام اللہ علیہا) کے پاس رسول ﷺ کے چند بال تھے۔ اُنکا اور اہل مدینہ کا عمل یہ تھا کہ جب کوئی بیمار ہو جاتا تھا (یا کسی کو نظرِ بد لگ جاتی تھی) تو وہ ان بالوں سے مس شدہ پانی پیتا تھا تاکہ شفایاب ہو سکے۔ اب رسول ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ انکے وصال کے بعد یوں بیماری سے شفا حاصل کی جائے۔ مگر چونکہ یہ بات عام تھی کہ تبرکات نبوی میں برکت ہے، لہذا ام سلمہؑ اور اہل مدینہ اپنے اجتہاد سے یوں موئے مبارک کے ذریعے شفا حاصل کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری، کتاب اللباس:
حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
’’مجھے میرے گھر والوں نے حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس (چاندی سے بنا ہوا) پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا۔ (اسرائیل نے تین انگلیاں پکڑ کر اس پیالے کی طرح بنائیں) جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موئے مبارک تھا، اور جب کبھی کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی بیمار ہو جاتا تو وہ حضرت اُم سلمۃ رضی اﷲ عنہا کے پاس (پانی کا) برتن بھیج دیتا۔ پس میں نے برتن میں جھانک کر دیکھا تو میں نے چند سرخ بال دیکھے۔‘‘
حافظ ابنِ حجر عسقلانی اپنی شرح "فتح الباری" میں لکھتے ہیں :’’مجھے میرے گھر والوں نے حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس (چاندی سے بنا ہوا) پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا۔ (اسرائیل نے تین انگلیاں پکڑ کر اس پیالے کی طرح بنائیں) جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موئے مبارک تھا، اور جب کبھی کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی بیمار ہو جاتا تو وہ حضرت اُم سلمۃ رضی اﷲ عنہا کے پاس (پانی کا) برتن بھیج دیتا۔ پس میں نے برتن میں جھانک کر دیکھا تو میں نے چند سرخ بال دیکھے۔‘‘
’’اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو وہ کوئی برتن حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے ہاں بھیجتا۔ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان مبارک بالوں کو اس میں رکھ دیتیں اور اس میں بار بار دھوتیں پھر وہ بیمار شخص اپنے اس برتن سے پانی پیتا یا مرض کی شفاء کے لئے غسل کرتا اور اسے ان موئے مبارک کی برکت حاصل ہو جاتی (یعنی وہ شفایاب ہو جاتا)۔‘‘
اب اگر اہلحدیث حضرات میں ہمت ہے اور واقعی اپنی بدعت کے معاملے میں ظاہر پرستی پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو پھر لگائیں وہ ام المومنین حضرت ام سلمہؑ اور اہل مدینہ پر بدعت و ضلالت کے فتوے۔حضرت انس کا اپنے اجتہاد سے موئے مبارک کو زبان کے نیچے رکھ کر دفن ہونا
علامہ ابن حجر العسقلانی، اپنی کتاب الاصابہ فی تمیز الصحابہ میں روایت نقل کرتے ہیں:
هَذِهِ شَعَرَةٌ مِنْ شَعَرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَضَعْهَا تَحْتَ لِسَانِي، قَالَ : فَوَضَعْتُهَا تَحْتَ لِسَانِهِ، فَدُفِنَ وَهِيَ تَحْتَ لِسَانِهِ.
حضرت ثابت البنانی بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’یہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بال مبارک ہے، پس تم اسے میری (تدفین کے وقت) اسے زبان کے نیچے رکھ دینا۔ وہ کہتے ہیں : میں نے وہ بال مبارک آپ رضی اللہ عنہ کی زبان کے نیچے رکھ دیا اور انہیں اس حال میں دفنایا گیا کہ وہ بال ان کی زبان کے نیچے تھا۔‘‘
اب رسول ﷺ نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ انکے موٗے مبارک کو زبان کے نیچے رکھ کر دفن ہو۔ مگر چونکہ صحابہ کو پتا تھا کہ موئے مبارک میں برکت ہے، اس لیے وہ اپنے اجتہاد سے یہ نیا کام کر رہے ہیں۔ حضرت اسماء بنتِ ابی بکر کا اپنے اجتہاد سے رسول ﷺ کے جبے کے توسط سے شفا حاصل کرنا
صحیح مسلم، کتاب اللباس:
هَذِهِ کَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ حَتَّي قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا وَکَانَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم يَلْبَسُهَا، فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَي يُسْتَشْفَي بِهَا.
حضرت اسماء رضی اﷲ عنھا کے آزاد کردہ غلام حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنتِ ابی بکر رضی اﷲ عنھما نے کسروانی طیلسان کا جبہ نکال کر دکھایا جس کے گریبان اور آستینوں پر ریشم کا کپڑا لگا ہوا تھا۔ پس آپ رضی اﷲ عنھا فرمانے لگیں :’’یہ مبارک جبّہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا کے پاس ان کی وفات تک محفوظ رہا، جب ان کی وفات ہوئی تو اسے میں نے لے لیا۔ یہی وہ مبارک جبّہ ہے جسے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیبِ تن فرماتے تھے۔ سو ہم اسے دھو کر اس کا پانی (تبرکًا) بیماروں کو شفاء یابی کے لئے پلاتے ہیں۔‘‘
اب رسول ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ انکی رحلت کے بعد انکے جبے کو دھو کر بیماری سے شفا حاصل کرو۔ مگر حضرت اسماء بنتِ ابی بکر اور اہل مدینہ اپنے اجتہاد سے اس جبے کو دھو کر بیماروں کو شفایابی کے لیے پلاتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ کا نبی ﷺ کے پیالے سے برکت حاصل کرنا
صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ:
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ طيبہ حاضر ہوا تو مجھے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ملے اور ا نہوں نے کہا : ’’میرے ساتھ گھر چلیں میں آپ کو اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا ہے۔‘‘
رسول ﷺ کے پیالے کے پانی کو سر پر چھڑکنا اور درود پڑھنااگر آج ہم اذان سے قبل درود پڑھ لیں تو بدعت و ضلالت کے فتوے شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن ادھر صحابہ کا طرز عمل دیکھئے جہاں وہ اپنے اجتہاد سے رسول ﷺ کے پیالے میں بھرے پانی کو اپنے سروں پر چھڑک رہے ہیں اور پھر درود پڑھ رہے ہیں۔
مسند احمد بن حنبل، جلد 3 ( لنک):
12480 حدثنا روح بن عبادة، حدثنا حجاج بن حسان، قال كنا عند أنس بن مالك فدعا بإناء وفيه ثلاث ضباب حديد وحلقة من حديد فأخرج من غلاف أسود وهو دون الربع وفوق نصف الربع فأمر أنس بن مالك فجعل لنا فيه ماء فأتينا به فشربنا وصببنا على رءوسنا ووجوهنا وصلينا على النبي صلى الله عليه وسلم.
’’ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین مضبوط دستے اور ایک چھلا تھا۔ آپ نے اسے سیاہ غلاف سے نکالا، جو درمیانے سائز سے کم اور نصف چوتھائی سے زیادہ تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس میں ہمارے لیے پانی ڈال کر لایا گیا تو ہم نے پانی پیا اور اپنے سروں اور چہروں پر ڈالا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا۔‘‘
یہ ایک "صحیح" روایت ہے جسکے تمام راوی ثقہ ہیں (لنک)تو اب دکھائیے کہ کہاں رسول ﷺ نے حکم فرمایا ہے کہ ان کے پیالے سے پانی لے کر اپنے چہروں اور سروں پر ڈالا جائے اور ایسا کرتے ہوئے ایک اور نیا فعل کیا جائے اور وہ یہ کہ رسول ﷺ پر درود بھی بھیجا جائے۔ اور ادھر حالت یہ ہے کہ اہلحدیث حضرات اذان سے پہلے درود پڑھنے پر بدعت و ضلالت کے فتوے لگا کر آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
صحابی کا اپنے اجتہاد سےعرقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبرکًا کفن میں لگانے کی وصیت
حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت امِ سلیم کے پاس ایک شیشی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک پسینہ اور چند موئے مبارک محفوظ تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے اپنے کفن میں اسی عرق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِ خوشبو لگانے کی وصیت کی، حضرت ثمامہ کا بیان ہے :
صحیح بخاری، کتاب الاستئذان:
فلما حضر أنس بن مالک الوفاةُ أوصي إلي أن يُجْعل في حنوطه من ذالک السُّکِ، قال : فجُعل في حنوطه.
’’جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے وصیت فرمائی کہ ان کے حنوط(٭) میں اس خوشبو کو ملایا جائے۔ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے حنوط میں وہ خوشبو ملائی گئی۔‘‘
حضرت ابو ایوب انصاری کا اپنے اجتہاد سے رسول ﷺ کی قبر مبارک پر منہ رکھنامسند امام احمد بن حنبل :
حَدَّثَنَا عَبدُ الْمَلِكِ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بنِ أَبي صَالِحٍ ، قَالَ : أَقْبلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبرِ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ ؟ فَأَقْبلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبو أَيُّوب ، فَقَالَ : نَعَمْ ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَبكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ ، وَلَكِنْ ابكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ
حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے تو مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کررہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے جواب دیا : ’’ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔‘‘
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ روایت کی اِسناد صحیح ہیں۔ حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں "بدعت" کیا ہے
ہر وہ نئی چیز، جو شریعت کے کسی اصول کے خلاف جا رہی ہو، وہ بدعت کے زمرے میں آتی ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ ہر وہ عمل، جو کسی سنت کو ختم کر دے، وہ بدعت (سنتِ سئیہ) کے زمرے میں آجائے گا۔
ما احدث قوم بذعۃ ال رفع مثلھا من السنۃ
جب کوئی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے تو اسی کی مثل سنت ختم ہو جاتی ہے۔ (مشکوۃ، ص ۳۱)
یعنی بدعت وہ ہے جن کے اختیار کرنے سے سنت بدل جائے۔ اگر کسی عمل سے سنت نہیں بدلتی تو وہ عمل بدعت بھی نہیں کہلائے گا۔رہبانیت اسی اصول کے تحت حرام قرار پائی۔ ذیل کی حدیث ملاحظہ فرمائیے:
صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح
انس ابن مالک روایت کرتے ہیں:
ازواجِ نبی کے پاس تین آدمی آئے اور نبی ﷺ کی عبادت کے سلسلہ میں دریافت کیا۔ جب اُن کو اِس کی خبر دی گئی تو انہوں نے اس کو کم تصور کیا اور کہنے لگے ہماری نبی ﷺ سے کیا نسبت۔ اللہ نے آپ ﷺ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ساری رات نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ دن میں روزے سے رہوں گا اور تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔ اچانک رسول ﷺ پہنچ گئے اور فرمایا کہ کیا تمہیں لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ خبردار، اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں۔ میں نفلی روزہ بھی رکھتا ہوں اور کبھی نہی بھی رکھتا ہوں۔ رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں لہذا جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔
یہ حدیث نئے افعال کے متعلق ہمیں چند مزید اصول دے رہی ہے۔اس حدیث کے میں جن نئے کاموں سے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے، ان کے متعلق نوٹ فرمائیے کہ:انس ابن مالک روایت کرتے ہیں:
ازواجِ نبی کے پاس تین آدمی آئے اور نبی ﷺ کی عبادت کے سلسلہ میں دریافت کیا۔ جب اُن کو اِس کی خبر دی گئی تو انہوں نے اس کو کم تصور کیا اور کہنے لگے ہماری نبی ﷺ سے کیا نسبت۔ اللہ نے آپ ﷺ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ساری رات نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ دن میں روزے سے رہوں گا اور تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔ اچانک رسول ﷺ پہنچ گئے اور فرمایا کہ کیا تمہیں لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟ خبردار، اللہ کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا ہوں۔ میں نفلی روزہ بھی رکھتا ہوں اور کبھی نہی بھی رکھتا ہوں۔ رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں لہذا جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔
- ایک صحابی نے عزم کیا کہ وہ پوری زندگی کبھی شادی نہیں کرے گا۔
- دوسرے صحابی نے عزم کیا کہ کہ وہ پوری زندگی کبھی سوئے گا نہیں (بلکہ ساری رات عبادت کرے گا)۔
- تیسرے صحابی نے عزم کیا کہ وہ تمام زندگی بلا ناغہ روزے رکھے گا۔
شریعت کا پہلا اصول: کچھ چیزوں کو نام لے کر حلال/حرام کرنا، اور کچھ چیزوں کو ایک “بنیادی اصول” کی وجہ سے حلال/حرام قرار دینا
شریعت میں جو چیزیں نام لے کر حرام کی گئی ہیں، وہ واضح ہیں اور سب کو ان کا علم ہے۔مگر کچھ چیزیں ہیں کہ جن کا وجود رسول ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا۔ مثلاً “ہیروئن کا نشہ” رسول ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا۔ مگر ایک بنیادی اصول ہے کہ جو چیز بھی انسان کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دے، وہ حرام ہے۔ اور اس بنیادی اصول کی وجہ سے آج کے دور میں ہیروئن کا نشہ حرام قرار پایا۔
شریعت کا دوسرا اصول: اگر کوئی عمل رسول ﷺ کی کسی سنت کو ختم کر دے، تو وہ حرام ہے
رسول ﷺ کی حدیث ہے کہ ہر وہ عمل، جو کسی سنت کو ختم کر دے، وہ بدعت کے زمرے میں آ جائے گا۔رہبانیت اسی اصول کی وجہ سے اسلام میں حرام ٹہری۔
اس حدیث میں جو نئے کام حرام قرار پائے ہیں، وہ اس لیے نہیں حرام ٹہرائے گئے کیونکہ وہ “نئے” تھے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نئے اعمال اُس انتہا پر پہنچ گئے تھے کہ جس کی وجہ سے رسول ﷺ کی کچھ سنتیں ختم ہو رہی تھیں۔ مثلاً:
- پہلے صحابی نے کہا کہ وہ ساری عمر شادی نہیں کرے گا (یہ حرام اس لیے ہوا کیونکہ یہ رہبانیت کی حد آ گئی تھی، جبکہ رسول ﷺ کی ایک سنت شادی کر کے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کرنا بھی ہے)
- دوسرے صحابی نے کہا کہ وہ ساری عمر رات کو سوئے گا نہیں (جبکہ رسول ﷺ کی سنت رات کو سونا بھی تھا اور ایسا کرنے سے رسول ﷺ کی یہ سنت ختم ہو رہی تھی)
- تیسرے صحابی نے کہا کہ وہ ساری عمر بلا ناغہ روزے رکھے گا (جبکہ رسول ﷺ کی سنت کچھ دن ناغہ کرنے کی بھی تھی اور ایسا کرنے سے یہ سنت مکمل طور پر ختم ہو رہی تھی)۔
مگر اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے، جسے کچھ لوگ صحیح طریقے سے نہ سمجھنے کی وجہ سے خواہ مخواہ اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں۔
دیکھیں رسول ﷺ نے ان تین صحابہ کو یہ نہیں کہا کہ:
- اگر میں نے ہفتے میں تین روزے رکھے ہیں، تو تم لوگ بھی صرف تین روزے رکھ سکتے ہو۔ اور اگر تم نے ہفتے میں تین کی جگہ چار یا پانچ روزے رکھنے کا نیا عمل کیا تو تم ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہو جاؤ گے۔
- اور اسی طرح اگر میں رات کے صرف ایک پہر عبادت کرتا ہوں، اور اگر تم نے ایک پہر کی جگہ دو یا تین پہر عبادت کرنے کا نیا عمل کیا تو تم ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہو جاؤ گے۔
- اسی طرح میں نے بارہ شادیاں کیں ہیں، مگر اگر کوئی اس نیت سے صرف ایک شادی کرتا ہے کہ زیادہ شادیاں کرنے سے اس کے پاس عبادت کا وقت کم ہو جائے گا، تو اُس کا یہ نیت کرنا ضلالت و گمراہی ہے۔
- . پہلا یہ کہ عبادت کا یہ نیا عمل قران و سنتِ رسول کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔
- . اور دوسرا یہ کہ عبادت کا یہ نیا عمل رہبانیت کی اُس انتہا Extreme کی حد تک نہ ہو کہ جس کی وجہ سے رسول ﷺ کی کوئی سنت مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
- اور تیسری شرط اور بیان کر دی جائے، اور وہ یہ کہ رسول ﷺ نے نام لیکر کہا ہوتا کہ یہ کام اتنی مقدار میں ہی ہو سکتا ہے، تو پھر اُس معاملے میں اِس مقدار سے زیادہ کام نہیں ہو سکتا (مثلاً ظہر کی نماز نام لیکر رسول ﷺ نے چار رکعت مقرر کی ہے۔ اگر اس مقرر کردہ سنت میں (کہ جس کی تعداد رسول ﷺ نے خود مقرر کر دی ہے) زیادتی کی جائے، تو پھر دوبارہ یہ بدعت بن جائے گی۔
مگر نفل نماز کی تعداد نام لیکر مقرر نہیں کی گئی ہے۔ لہذا اس میں اجازت ہے کہ اگر رسول ﷺ شب بھر میں پچاس رکعات نماز ادا کرتے تھے تو آپ 100 رکعات نماز پڑھ سکتے ہیں۔
شریعت کا تیسرا اصول: ہر چیز اصل میں مباح ہے جبتک نص سے اسکی حرمت نہ ظاہر ہو
کون سا نیا کام بدعت ہے، اور کونسا نہیں، اس کو جاننے کے لیے بہت اہم ہے کہ ہم شریعت کے اس اصول کو اچھی طرح سمجھیں کہ دینِ اسلام میں ہر چیز اصل میں مباح ہے (یعنی اس کی اجازت ہے تاوقتیکہ کسی نص کی بنیاد پر اُس کام کو اللہ نے حرام نہ قرار دیا ہو)
مثلاً محمد و آلِ محمد (علیھم الصلوۃ و السلام) پر درود بھیجنا ایک بہت بابرکت عمل ہے۔ اب اگر کوئی شخص ہر کام کے آغاز سے پہلے (مثلاً اذان سے قبل) درود پڑھنا چاہے، تو کیا شریعت میں یہ عملِ حرام قرار دیا جائے گا؟
نہیں، ہرگز نہیں، کیونکہ:
- اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نص نہیں ہے جو بتاتی ہو کہ درود صرف کچھ خاص اوقات میں پڑھا جا سکتا ہے، اور باقی اوقات میں پڑھنا حرام ہو۔
- اور جب تک ایسی کوئی حرمت ثابت نہ ہو، اُس وقت تک شریعتِ محمدیہ میں اپنی ذاتی رائے/اجتہاد سے کیا گیا ہر نیا کام مباح رہتا ہے (چاہے رسول ﷺ نے اسے کرنے کا حکم دیا ہو یا ایسا کوئی حکم موجود نہ ہو)
اہلحدیث حضرات کا سنن دارمی کی ابن مسعود والی ضعیف روایت سے استدلال
اہلحدیث حضرات کے پاس لے دے کر اپنے مؤقف کی دلیل میں صرف ایک روایت ہے (ّجو صحابی ابن مسعود پر موقوف ہے)۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اول تو یہ روایت ضعیف ہے ، اور دوم یہ کہ ابن مسعود کی اس روایت کے مقابلے میں اوپر رسول اللہ ﷺ سے براہ راست صحیح روایات نقل ہو چکی ہیں جن کے مقابلے میں اس ضعیف روایت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، اور سوم یہ کہ ابن مسعود سے ہی زیادہ مستند روایت مروی ہے جہاں انکا مؤقف "ذکر" کے متعلق اس روایت کی نفی کر رہا ہے۔
پہلےسنن دارمی کی وہ روایت دیکھتے ہیں جو اہلحدیث حضرات پیش کرتے ہیں :
[ 204 ] أخبرنا الحكم بن المبارك انا عمر بن يحيى قال سمعت أبي يحدث عن أبيه قال كنا نجلس على باب عبد الله بن مسعود قبل صلاة الغداة فإذا خرج مشينا معه إلى المسجد فجاءنا أبو موسى الأشعري فقال أخرج إليكم أبو عبد الرحمن بعد قلنا لا فجلس معنا حتى خرج فلما خرج قمنا إليه جميعا فقال له أبو موسى يا أبا عبد الرحمن اني رأيت في المسجد أنفا أمرا أنكرته ولم أر والحمد لله الا خيرا قال فما هو فقال ان عشت فستراه قال رأيت في المسجد قوما حلقا جلوسا ينتظرون الصلاة في كل حلقة رجل وفي أيديهم حصا فيقول كبروا مائة فيكبرون مائة فيقول هللوا مائة فيهللون مائة ويقول سبحوا مائة فيسبحون مائة قال فماذا قلت لهم قال ما قلت لهم شيئا انتظار رأيك أو انتظار أمرك قال أفلا أمرتهم ان يعدوا سيئاتهم وضمنت لهم ان لا يضيع من حسناتهم ثم مضى ومضينا معه حتى أتى حلقة من تلك الحلق فوقف عليهم فقال ما هذا الذي أراكم تصنعون قالوا يا أبا عبد الله حصا نعد به التكبير والتهليل والتسبيح قال فعدوا سيئاتكم فأنا ضامن ان لا يضيع من حسناتكم شيء ويحكم يا أمة محمد ما أسرع هلكتكم هؤلاء صحابة نبيكم صلى الله عليه وسلم متوافرون وهذه ثيابه لم تبل وأنيته لم تكسر والذي نفسي بيده انكم لعلي ملة هي أهدي من ملة محمد أو مفتتحوا باب ضلالة قالوا والله يا أبا عبد الرحمن ما أردنا الا الخير قال وكم من مريد للخير لن يصيبه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا أن قوما يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم وأيم الله ما أدري لعل أكثرهم منكم ثم تولى عنهم فقال عمرو بن سلمة رأينا عامة أولئك الحلق يطاعنونا يوم النهروان مع الخوارج
ترجمہ: حضرت ابو موسی اشعری نے ابن مسعود سے کہا : اے ابوعبد الرحمن میں ابھی ابھی مسجد میں ایک نئی بات دیکھ کر آرہا ہوں ابن مسعود نے کہا ، وہ کیا ؟ حضرت ابو موسی نے عرض کیا کچھ لوگ نماز کے انتظار میں مسجد کے اندر حلقے بنائے بیٹھے ہیں ، سب کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں اور ہر حلقے میں ایک آدمی متعین ہے ، جو ان سے کہتا ہے کہ سوبار اللہ اکبر کہو ، تو سب لوگ سوبار اللہ اکبر کہتے ہیں ، پھر کہتا ہے کہ سوبار الحمد للہ کہو تو سب لوگ سوبار الحمد للہ کہتے ہیں پھر کہتا ہے کہ سو بار سبحان اللہ کہو تو لوگ سوبار سبحان اللہ کہتے ہیں ۔یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے حضرت ابو موسی اشعری سے پوچھا کہ پھر تم نے ان لوگوں سے کیا کہا ؟ حضرت ابو موسی نے جواب دیا کہ میں نے سوچا کہ آپ کی رائے معلوم کرلوں حضرت ابن مسعود نے فرمایا : تم نے ان سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ اپنے گناہ شمار کرو ، میں اس بات کی ضمانت لیتا ہوں کہ تمہاری نیکیاں ضائع نہ ہوں گی ۔بہر حال یہ کہہ کر حضر ت عبد اللہ بن مسعود مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ کیا کر رہے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا : اے ابو عبد الرحمن ! یہ کنکریاں ہیں جن پر ہم تسبیح وتہلیل اور تکبیر گن رہے ہیں ، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : بجائے اس کے تم اپنے گناہوں کو شمار کرو اور میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہ ہوگی۔عجب ہے ! اے امت محمد کہ تم کتنی جلدی ہلاک و گمراہ ہوگئے حالانکہ ابھی تک تمہارے نبی کے صحابہ کثیر تعداد میں موجود ہیں ، ابھی تمہارے نبی کے چھوڑے ہوئے کپڑے نہیں پھٹے اور نہ ہی ان کے برتن ٹوٹے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم یا تو ایک ایسی شریعت پر چل رہے ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے – نعوذ باللہ – بہتر ہے یا پھر تم لوگ گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو ، لوگوں نے جواب دیا ، اے ابو عبد الرحمن ! اللہ کی قسم ، اس طرز عمل سے خیر کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے ، حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا :خیر وبھلائی کے کتنے طلب گار ایسے ہیں جو خیر وبھلائی کو حاصل نہیں کرپاتے چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتلایا ہے کہ ایک قوم ایسی ہوگی جو قرآن تو خوب پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا ، اللہ کی قسم میں [غیب تو ] نہیں جانتا ، البتہ شاید ان میں سے اکثر تم ہی میں سے ہوں ۔یہ باتیں کہہ کر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وہاں سے رخصت ہوگئے ، راوی حدیث حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان حلقوں کے عام لوگوں کو دیکھا کہ نہروان کی جنگ میں خوارج کے ساتھ ملکر ہمارے اوپر نیزے [اور تیر] برسا رہے تھے ۔{سنن دارمی :1/68-69} ۔
اس روایت کا ایک راوی عمر ابن یحیی الھمدانی ہے جو کہ ضعیف ہے۔ حیرت ہے کہ اہلحدیث حضرات سب سے زیادہ "صحیح" حدیث کے ٹھیکیدار بنتے ہیں مگر جب انکا مقصد ہو تو روایت کے ضعف کوبہت اچھی طرح جانتے ہوئے بھی اسے گلے سے لگائے ہوتے ہیں۔امام الذہبی اپنی کتاب المغنی فی الضعفاء میں راوی عمر ابن الھمدانی کے متعلق لکھتے ہیں:
4729 - عمرو بن يحيى بن عمرو بن سلمة قال يحيى بن معين ليس حديثه بشيء قد رأيته
یعنی امام یحیی ابن معین اسکے متعلق کہتے ہیں کہ اس کی حدیثیں کچھ نہیں ہیں۔اہلحدیث علماء کی کوشش کہ اس روایت کو صحیح ثابت کیا جائے
اس روایت کے ضعیف ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، مگر پھراہلحدیث عالم شیخ سلیم الھلالی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے "صحیح" ثابت کیا جائے۔ اہلسنت عالم دین الحاج جبرئیل نے انکا جواب دیا ہے جو کہ ذیل میں پیش خدمت ہے، تاکہ تمام تر شکوک رفع ہو جائیں اور اہلحدیث حضرات کے پاس کوئی راہ فرار باقی نہ بچے۔
Answer by Hajj Gibril (link)
Recently I was shown by somebody a response by some Sheikh Saleem Al-Hilali regarding the Athaar of Ibn Masood. I have read in Sheikh Hishaam Kabaani's (damatay barka tahoum) book that the athaar from Darimi's book is WEAK because of Amr Ibn Yahaya al hamdaani. Saleem Al-Hilali says that this ATHAAR IS Saheeh. Because it has come from two chains. And Imaam Bukhari (rahmatullahi alayhi)has confirmed and Ibn Katheer has taken from that narrator and that here is no opposition (JARH). Could you please give details on this athaar.
The report of Ibn Mas`ud comes only through `Amr ibn Yahya al-Hamadani who is da`if.
Al
arimi in the Muqaddima of his Sunan, narrated from al-Hakam ibn al-Mubarak who narrates from `Amr ibn Salama al-Hamadani. This `Amr ibnYahya ibn `Amr ibn Salima al-Hamadani is da`if. Ibn Ma`in saw him and said: "his narrations are worth nothing"; Ibn Kharrash: "he is not accepted"; al
hahabi listed him among those who are weak and whose hadith is not retained in al
u`afa' wa al-Matrukin (p. 212 #3229), Mizan al-i`tidal (3:293), and al-Mughni fi al
u`afa' (2:491); and al-Haythami declared him weak (da`if) in Majma` al-Zawa'id, chapter entitled Bab al-`Ummal `ala al-Sadaqa.As for the claim that Imam al-Bukhari said anything to authentify this report or to declare `Amr reliable, then where did they make such a claim? All Bukhari said in al-Tarikh al-Kabir (6:382 #270
u`afa' wa al-Matrukin (2:233 #2601) and Ibn `Adi in al-Kamil fi al
u`afa' (5:122 #1287) narrate two opposite verdicts from Yahya ibn Ma`in concerning him, and this is what al
hahabi retains in Mizan al-I`tidal (5:352 #6480) and al-Mughni fi al
u`afa' (2:491 #4729) as well as Ibn Hajar in Lisan al-Mizan (4:378 #112Further, its authenticity was questioned by al-Suyuti in al-Hawi (2:31); al-Hifni in Fadl al-Tasbih wa al-Tahlil as cited by al-Lacknawi, Sibahat al-Fikr (p. 25 and 42-43);
Further, it is belied by Imam Ahmad's narration in al-Zuhd from Abu Wa'il who said: "Those who claim that `Abd Allah [= Ibn Mas`ud] forbade dhikr [are lying]: I never sat with him in any gathering except he made dhikr of Allah in it." Cited by al-Munawi in Fayd al-Qadir (1:457), al-Suyuti in Natijat al-Fikr fi al-Jahr bil
hikr in al-Hawi, al-Nabulusi in Jam` al-Asrar (p. 66), al-Hifni in Fadl al-Tasbih wa al-Tahlil as cited in al-Lacknawi, Sibahat al-Fikr (p. 25).In addition, the narrations affirming loud dhikr are sahih and innumerable, and definitely take precedence over this mawquf report even if we should consider it authentic.
And Allah knows best.
Hajj Gibril
دارمی کی روایت ضعیف ہی نہیں، بلکہ منکر بھی ہے
منکر وہ روایت ہوتی ہے جو ضعیف بھی ہو اور کسی صحیح روایت کے مخالف بھی جا رہی ہو
صحیح مسلم، کتاب الذکر و الدعاء (آنلائن لنک)
سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے مسجد میں (لوگوں کا) ایک حلقہ دیکھا تو پوچھا کہ تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا اللہ کی قسم! کیا تم اسی لئے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! صرف اللہ کے ذکر کے لئے بیٹھے ہیں۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ میں نے تمہیں اس لئے قسم نہیں دی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا اور میرا رسول اللہﷺ کے پاس جو مرتبہ تھا، اس رتبہ کے لوگوں میں کوئی مجھ سے کم حدیث کا روایت کرنے والا نہیں ہے (یعنی میں سب لوگوں سے کم حدیث روایت کرتا ہوں)۔ ایک دفعہ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کے حلقہ پر نکلے اور پوچھا کہ تم کیوں بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ ہم اللہ جل و علا کی یاد کرنے کو بیٹھے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں اور شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی راہ بتلائی اور ہمارے اوپر احسان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی قسم! تم اسی لئے بیٹھے ہو؟ وہ بولے کہ اللہ کی قسم! ہم تو صرف اسی واسطے بیٹھے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس لئے قسم نہیں دی کہ تمہیں جھوٹا، سمجھا بلکہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں میں فخر کر رہا ہے۔
چنانچہ دارمی کی روایت نہ صرف ضعیف بلکہ منکر بھی ہے، مگر اسکے باوجود بدقسمتی کہ ہمارے اہلحدیث بھائی اسے پھر بھی گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ اللھم صلی علی محمد و آل محمد
